دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

ہی تھی بلکہ اس نے اسی وقت مقرہ کو دیکھا اور اسی کی زبانی یا اور عورات کے بیان سے بھی جانا تھا کہ یہ عصمت جہاں بیگم ہے تو احتمال تھا کہ واقع میں وہ کوئی اور عورت تھی جس نے بفریب اپنے آپ کو عصمت جہاں بیگم ظاہر کیا اس شبہ کے رفع کو حاکم پر لازم تھا کہ عصمت جہاں بیگم کو وقت شہادت جلال خاں کے سامنے کرتا اور اس کا منہ کھلواکر شاہد سے گواہی لیتا کہ یہ وہی عورت ہے جسے تونے وقت توکیل دیکھا تھا اگر جلال خاں شناخت کرتا تو اس کی گواہی کامل تھی ورنہ باطل،مگر یہ قصور شاہد کا نہیں،شاہد کا کیا زور تھا کہ عصمت جہاں بیگم کو جو اس وقت اپنی توکیل سے منکر اور برسرخلاف ہے بالجبر حاضر لاتا اور اس کا منہ کھول کر دیکھ کر گواہی دیتا یہ کام تو حاکم کا تھا جو متروك رہا اور محض بے ترتیب و نامکمل مقدمہ پر فیصلہ دے دیا گیا مجوزکا فرمانا کہ شناخت کرانا مقرہ کا گواہ مذکور کو شرط تھا جو متروك ہے نہایت حق وبجا ہے واقعی شناخت کرنا گواہ کاکام تھا وہ اس نے متروك نہ کیا کہ نہ وہ اس کے اختیار میں تھا نہ اس سے چاہا گیاہاں شناخت کرنا حاکم کاکام تھا وہ ضرور متروك رہا مگر ترتیب مقدمہ میں مجوز کا خود قصور رکھنا اور اپنے فعل کا الزام گواہ کو دے کر بلاوجہ شہادت ودعوٰی رد فرمادینا ایك سخت تعجب انگیز بات ہے۔

(۳)اختلافات:ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے مذہب میں اختلاف وہ مضر ہے جو اصل معاملہ پر اثر انداز ہے زائد و فضول باتیں کہ یوں ہوں تو ضرر نہیں محض نظر انداز ہیں ان میں اختلافات ہزار ہوں اصلًا قابل لحاظ نہیں یہاں دعوٰی صرف اس قدر ہے کہ عصمت جہاں بیگم سے میرا نکاح ہوا ہے وہ مجھے دلادی جائے مہر وغیرہ کچھ زیر بحث نہیں تو شاہدوں یا شہود و دعوٰی میں مقدار مہر یا جنس مہر کا اختلاف اصل دعوٰی میں کچھ مخل نہیں،کیا اگر مہر میں دس اشرفیاں ٹھہری ہوں تونکاح ہوگا بیس ٹھہری ہوں تونہ ہوگا اور جب مہر دربارہ نکاح ایك امر زائد ہے تو محض بالائی لغو باتیں کہ بوستاں خاں کے جاتے وقت جلال خاں دروازہ میں کھڑا تھا یا اس کے پیچھے پیچھے گیا تھا،عصمت جہاں بیگم نے تین بار اجازت دی یا ایك بار کہا تھا،جلال خاں نے عصمت جہاں بیگم سے سوال کیا یا اس نے خود بے سوال کہا تھا،عصمت جہاں بیگم نے شمسن بیگم کے کہنے پر بوستان خاں سے خطاب کیا یا وہ کہنے نہ پائی تھی کہ اس نے کہہ دیا،نکاح میں بتاشے بٹے تھے یا چھوہارے یا مٹھائی۔محمد حسین خاں اپنے بیٹے کے ساتھ آیا یا بعد وغیروغیرہ لغویات کا کیا ذکر،میں بعونہ تعالٰی ان تمام امور پر تفصیلًا بحث کیا چاہتا ہوں یہاں اس عام وجامع مہم و نافع قاعدہ کو خوب سمجھ لیا جائے کہ فیصلوں میں باربار ایسی بیکار بحثیں پیش آتی ہیں اور ان کے سبب مسلمانوں کے حقو ق پر برا اثر پڑتا ہے،بہت ادب سے تاکیدی گزارش کی جاتی ہے کہ اسلامی عدالتیں تو جہ تام سے ان احکام شرعیہ کو سنیں اور ان پر کار بندرہیں کہ حقوق مسلمین ضائع نہ ہوں صفر۱۳۱۶ھ


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن