30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واقع ہوا،صحت نکاح ہر گز تقدم توکیل پر موقوف نہیں،نہ ثبوت نکاح ثبوت توکیل سابق علی النکاح پر۔اگر کوئی فضولی راہ چلتا محض بلا اجازت وبلا اطلاع ہندہ کا نکاح زید سے خواہ زید کی طرف سے فضولی ہو کر اس کا نکاح ہندہ سے کردے اور طرف ثانی یعنی پہلی صورت میں زید اور دوسری صورت میں ہندہ خود یا اس کا وکیل یا ولی یا اس کی طرف سے بھی کوئی راہ چلتا اسی مجلس میں دو گواہوں کے سامنے کے سنتے سمجھتے ہوں قبول کرلے نکاح ضرور صحیح و منعقد ہوجائے گا جبکہ کوئی اس قابل ہو کہ اسے خبر پہنچے اور وہ اس فعل فضول کو روا رکھے تو جائز ہوسکے گا ہاں اس کا نفاذ خود منکوحہ یا ناکح یا دونوں یا ان کے اولیا کی اجازت پر موقوف رہے گا یعنی منکوحہ یا ناکح صرف ایك کی طرف سے کوئی فضولی تھا تو اس کی اپنی اجازت چاہئے اگر بالغ ہو ورنہ ولی کی اور دونوں کی طرف سے فضولیوں نے ایجاب و قبول کیا تو دونوں کی اپنی اجازت پر توقف ہوگا اگر بالغ ہوں یا اولیا کی اگر نابالغ ہوں یا ایك کی اپنی اور دوسرے کے ولی کی اگر ایك بالغ دوسرا نابالغ ہو بہر حال صحت نکاح میں شبہہ نہیں،ایسا نکاح اگر حاکم کے سامنے ثابت ہو تو ہر گزاس بناء پر رد نہ کرے گا کہ توکیل تو ہوئی ہی نہ تھی لہذانکاح ثابت نہیں بلکہ اس وقت تنقیح اس کی لازم ہوگی کہ آیا اجازت پائی گئی یا نہیں،اگر بعد نکاح اجازت قولًاخواہ فعلًا کسی طرح ثابت ہو ضرور ثبوت نکاح کاحکم کرے گا ورنہ نہیں۔در مختار فصل فضولی میں ہے:
|
کل تصرف صدر منہ کبیع وتزویج وطلاق واعتاق ولہ مجیز حال وقوعہ العقد موقوفا[1]۔ |
فضولی شخص کا ایسا تصرف کہ اس کے تصرف کے وقت کوئی جائز کرنے والا موجود ہو مثلًا بیع،نکاح کرنا،طلاق واعتقاق،تو یہ تصرفات موقوف طور پر منعقد ہوں گے(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
الموقوف من قسم الصحیح وھو احد طریقین للمشائخ وھو الحق[2]۔ |
موقوف تصرف صحیح اقسام میں سے ہے،یہ مشائخ کے دو طریقوں میں سے ایك ہے اور یہی حق ہے(ت) |
فتاوٰی خیریہ وبحرالرائق وردالمحتار وغیرہا عامہ اسفار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع