30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سچا تھا اور فرضی نہ تھا اگر وہ حلف سے انکار کرے تو اس کے باپ کا دعوٰی ثابت مانا جائے گا اور حلف کرلے تو ر د ہوجائے گا۔ در مختار میں ہے:
|
اقررجل بمال فی صك واشھد علیہ بہ ثم ادعی ان بعض ھذاالمال المقربہ قرض وبعضہ ربا علیہ فان اقام علی ذٰلك بینۃ تقبل وان کان متناقضا لانانعلم انہ مضطر الٰی ھذاالاقرار شرح وھبانیہ[1]۔ |
ایك شخص نے رسید میں درج مال کا دوسرے کیلئے اقرار کیا اور مدعی نے اس پر شہادت پیش کی پھر مقر نے کہا کہ اس مال میں سے کچھ قرض ہے اور کچھ سود ہے اس پر مقر نے گواہ پیش کردئے تو یہ گواہی قبول کی جائے گی اگرچہ یہ بات پہلے اقرار کے مناقض ہے کیونکہ ہمیں علم ہے کہ وہ اس اقرار پر مجبور تھا،شرح وہبانیہ۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
اقر ثم ادعی المقرانہ کاذب فی الاقرار یحلف المقرلہ ان المقر لم یکن کاذبا فی اقرارہ عند الثانی وبہ یفتی درر[2]۔ |
اقرار کرکے پھر کہتا ہے میں نے جھوٹا اقرار کیا ہے تو مقرلہ (جس کے حق میں اقرار کیا)سے قسم لی جائیگی کہ اقرار کرنیوالے نے سچا اقرار کیا ہے نہ کہ جھوٹا،یہ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك ہے،اور اسی پر فتوی دیا جائے گا، درر۔(ت) |
یہ فیصلہ قضا ہے اور فیصلہ سعادت وہ تھا انت ومالك لابیک[3]تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔اپنے دونوں جہان کی بھلائی چاہتا ہے تو اسی فیصلہ پر سر رکھ دے کہ یہ فیصلہ اس کے نبی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ہے،اور مسلمان وہی ہے جوان کافیصلہ دل سے مان لے،اﷲ عزوجل فرماتا ہے "تیرے رب کی قسم مسلمان نہ ہوں گے جب تك اپنے باہمی جھگڑوں میں تجھے حکم نہ بنائیں پھر تیرے فیصلہ سے اپنے دلوں میں اصلًا تنگی نہ پائیں گے اور قبول کرلیں مان کر"[4]۔اﷲ عزوجل توفیق عطا فرمائے،آمین!واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع