30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھانے پینے،پہننے،رہنے کے لئے،اور حاجت ہوتو خادم کے واسطے بھی،بیٹے کے روپے پیسے سونے چاندی ناج کپڑے یاقابل سکونت پدر مکان سے ہو،ہاں یہ اشیاء نہ ملیں توانہیں اغراض ضروریہ کے لئے اس کے اور اموال سے جو خلاف جنس حاجت ہوں بحکم حاکم یا حاکم نہ ہو تو علی المفتی بہ بطور خود بھی لے سکتا ہے مثلًا کھانے کی ضرورت ہے اناج یا روپیہ نہ پایا تو کپڑے برتن لے سکتا ہے یا کپڑوں کی ضرورت ہے اور دام یاکپڑے نہ ملے تو ناج وغیرہ بیچ کر بناسکتا ہے نہ یہ کہ اس کی جائداد ہی سرے سے اپنی ٹھہرالے۔درمختار میں ہے:
|
فی المبتغی للفقیران یسرق من ابنہ الموسر مایکفیہ ان ابی ولاقاضی ثمۃ والا اثم[1]۔ |
مبتغی للفقیر میں ہے کہ باپ اپنے بیٹے کے انکار پر اس کااتنا مال چوری کرلے جتنا اس کونفقہ کےلئے ضرورت ہے جبکہ وہاں قاضی نہ ہو ورنہ گنہگار ہوگا۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
سیاتی قریبا لو انفق الابوان ماعندھما للغائب من ما لہ علی انفسھما وھو من جنس النفقۃ لایضمنان لوجوب نفقۃ الابوین والزوجۃ قبل القضاء حتی لو ظفر بجنس حقہ فلہ اخذہ ولذافرضت فی مال الغائب بخلاف بقیۃ الاقارب ونحوہ فی المنح و الزیلعی وفی زکاۃ الجوھرۃ الدائن اذاظفر بجنس حقہ لہ اخذہ بلا قضاء ولارضاء وفی الفتح عند قولہ و یحلفھا باﷲ مااعطاھا النفقۃ وفی کل موضع جازا القضاء بالدفع کان لھا ان تأخذ بغیر قضاء |
عنقریب آئے گا کہ اگر غائب بیٹے کا مال پاس ہو تو والدین ضرورت نفقہ کے لئے اسے صرف کرلیں در انحالیکہ وہ مال جنس نفقہ ہو تو والدین ضامن نہ ہوں گے کیونکہ والدین اور بیوی کا نفقہ قضاء کے بغیر بھی واجب ہے لہذا وہ اپنے حق والی جنس پر قابو پالیں تو قبضہ کرسکتے ہیں،اسی وجہ سے غائب کے مال میں ان کا نفقہ بقدر ضرورت نافذ ہوتا ہے بخلاف باقی اقارب کے۔اسی طرح کا بیان منح،زیلعی اور جوہرہ کے باب زکوٰۃ میں ہے،قرض خواہ اپنے حق والی جنس پر قابو پا نے پر لے سکتا ہے خواہ رضا اور قضانہ ہو۔اورفتح میں اس کے قول کہ "بیوی سے قاضی قسم لے گا کہ خاوند نے مجھے نفقہ نہیں دیا" کے تحت ہے جہاں قاضی کو بیوی کے لئے نفقہ نافذ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع