30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آئی تھی اداکاری کا مطالبہ کیا اور چونکہ خالدہ اخت ہندہ کا دین مہر واقعی واجب الادا تھا تو جو حصہ ۸/ متروکہ کہ شوہرنے پایا وہ شوہر ہندہ نے محض دیانتداری سے بعوض دین مہر چھوڑدیا،مگر ازانجا کہ برادراں ہندہ کی جس نے اپنا دین مہر معاف کردیا تھا نیت صاف نہ تھی چہارم حصہ متروکہ ہندہ کو ابھی اسی دین مہر سابق میں ملاکر ہضم کرنا چاہا اور ہندہ کی نانی کو بھی نالش پر ابھارا تو شوہر ہندہ نے محض بغرض استحفاظ حصہ چہارم اپنے مصلحۃً یہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہندہ نے مرض الموت مں اپنی کل جائداد اپنے شیر خوار بچہ کو ہبہ کردی جس کا کوئی گواہ بجز شوہر ہندہ کے نہ تھااور بعض مقامات میں بذریعہ تحریری شوہر ہندہ نے اس وقت تك ہبہ کا اقرار کیا کہ وہ ششم حصہ بھی خود اپنے مال سے اسم فرضی اپنے پسر کے خرید لیا اور رمن بعد برابر کا غذات وغیرہ پر خود اپنے اور اپنے شیر خوار لڑکے کی طرف سے بحیثیت ولایت کے دستخط کرتا رہا اور برابر وہ جائداد پسر ہندہ کے قبضہ میں حسب حصہ رسد کے رہی تااینکہ وہ لڑکا عاقل و بالغ ہوا پھر اس کی شادی بھی ہوئی تو اب وہ لڑکا کل متروکہ اپنے مادر متوفیہ ہندہ پر دعوٰی کرتا ہے اور چہارم حصہ پدری اور اس حصہ پر جواس کے باپ شوہر ہندہ نے اپنے پسر کے نام سے اسم فرضی ہندہ کی نانی سے خریدا تھا دونوں کو ہضم کرنا چاہتا ہے اور کچہری میں مقدمہ دائر کیا ہے اور اپنے پدر کے اقرار ہبہ کو جو مثل خریداری ششم حصہ کو وہ مصلحۃً بیان کرتا رہا استدلال میں پیش کرتا ہے اور کسی حال میں باوجود فہمائش بلیغ منازعت سے باز نہیں آتا اور باپ کی تعظیم و تکریم تو درکنار ماں وپدر کو غلط اور لغو جانتا ہے اور حقوق پدر کا مطلق خیال نہیں کرتا تو ایسی صورت میں علمائے دین کا اس مصلحتی اقرار پدر متعلق ہبہ کے کیا ارشاد ہے اور اس پسر کے اس تکرار وفساد کو صحیح ودرست جانتے ہیں یا بالعکس؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
اولاد کو حقوق پدر ی کا خیال نہ کرنا اس کے ساتھ تمردو مخالفت سے پیش آنا اپنے لئے عذاب شدید ناروغضب رب قہار کا واجب کرتا ہے،اﷲ عزوجل نے قرآن عظیم میں فرض کیا کہ والدین کے ساتھ احسان کرو،انہیں ہُوں نہ کہو،ان سے اعزاز واکرام کا کلام کرو،ان کے لئے خاص محبت سے تذلل کا بازوبچھاؤ،ان کےلئے دعا کرو کہ الٰہی !ان پر رحم فرما جیسا انہوں نے مجھے چھٹپن میں پالا۔رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث و الرجلۃ من النساء[1]۔رواہ |
تین شخص ہیں کہ جنت میں نہ جائیں گے،ماں باپ کو ستانے والا اور دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت |
[1] سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۳۵۷،کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب البروالصلہ باب العقوق مطبع موسسۃ الرسالۃ بیروت ۲ /۳۷۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع