30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یمکنہ اثبات حقہ بالبینۃ فلا یجعل الیمین المھلکۃ حقالہ فی ھذہ الحال لانہ فی غیر وقتہ[1] اھ ومعلوم ان الاتواء حاصل مع بینۃ لم تثبت دعواہ فکانت کلا بینۃ بناءً علی ان البینۃ اذالم توافق الدعوی و منہ الشہادۃ بالمجھول بقیت بلا دعوی والدعوی شرط الشہادۃ فی حقوق العباد وانتفاء الشرط انتفاء المشروط فظہرانہ عجز من البینۃ فلہ طلب حلف المدعی علیہ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس کا حق ضائع نہ کرسکے گا بلکہ مدعی اپنے حق کو گواہی کے ذریعے ثابت کرلے گا لہذا اس حال میں ہلاك کرنیوالی قسم مدعی کا حق نہ بنے گی کیونکہ وہ وقت نہیں ہے اھ اور یہ بات واضح ہے کہ ایسی گواہی جو دعوٰی کوثابت نہ کرسکے تو وہ کالعدم قرار پائے گی اس بناء پر کہ وہ گواہی دعوٰی کے موافق نہ ہوئی، اس کی ایك صورت یہ ہے کہ شہادت مجہول ہوتوگویا دعوٰی ثابت نہ ہوا،حالانکہ شہادت کے لئے دعوٰی ضروری شرط ہے تو جب شرط نہ ہوئی تو مشروط نہ ہوا،توظاہر ہوگیا کہ دعوٰی پر گواہی سے عاجز ہے تو اسے قسم طلب کرنے کا حق ہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۸۱: ازشہر مسئولہ غلام رسول ۲۷/ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایك پنچایت قائم ہوئی اور ایك شخص پر ایك امر میں حلف قائم کیا اور سب پنچوں نے اسے منظور کیا اس شخص نے حلف سے بیان کیا وہ معاملہ فیصل ہوگیا بعد کو چند اشخاص نے پنچ سے علیحدہ ہوکریہ کہا کہ حلف کو نہیں جانتے اور ہمارے یہاں حلف نہیں ہے ہم حلف کو نہیں جانتے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں یہ قول قائل کا کہ ہم حلف کو نہیں جانتے ہمارے یہاں حلف نہیں ہے اگر وہ شخص اہل اسلام سے ہے اور بوجہ جہالت و نادانی یہ قول کرتا ہے تو گنہگار ہے توبہ چاہئے اور اگر جانتا ہے کہ یہ حکم شرع ہے اور تکذیب کرتا ہے یا اہانت کرتا ہے تو حکم کفر عائد ہوتا ہے اس لئے کہ یہ حکم حدیث مشہور البینۃ للمدعی والیمین علی من انکر[2] (گواہی مدعی کو لازم اور قسم مدعی علیہ منکر پر ہے۔ت)سے ثابت ہے
[1] غایۃ البیان
[2] صحیح البخاری کتاب الرہن باب اذااختلف الراہن والمرتہن قدیمی کتب کراچی ۱/ ۲۴۲،جامع الترمذی ابواب الاحکام باب ماجاء ان البینۃ علی المدعی امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۶۰،سنن الدار قطنی باب فی المرأۃ تقتل اذاارتدت نشر السنۃ ملتان ۴/ ۲۱۸،السنن الکبرٰی کتاب الدعوی باب البینۃ علی المدعی الخ دارصادربیروت ۱۰/ ۲۵۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع