30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الوصی والمتولی وابوالصغیر یملك الاستحلاف ولا یحلف[1]۔ |
وصی،متولی،نابالغ کا باپ قسم لے سکتے ہیں اور ان سے قسم نہیں لی جاسکتی۔(ت) |
درمختار و تنویر الابصار وبحرالرائق میں ہے:
|
لایستحلف الاب فی مال الصبی ولا الوصی فی مال الیتیم ولا المتولی للمسجد والاوقاف الااذاادعی علیہم العقد[2]۔ |
والد سے نابالغ بیٹے کے مال سے متعلق ولی سے یتیم کے مال اور متولی سے مسجد واوقاف کے متعلق قسم نہ لی جائے گی ان سے قسم صرف اس صورت میں لی جائیگی جب ان پر کسی عقد کا دعوٰی ہو۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ لایستحلف الاب اھ ای لوجنی الصبی جنایۃ فانکر ابوہ اووصیہ او ادعی احد جدارالمسجد او الدار الموقوفۃ اوانہ انفق علی الوقف شیئا باذن المتولی السابق[3]۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
ماتن کا قول کہ"باپ سے قسم نہ لی جائے گی الخ"یعنی بچے کی جنایت کا دعوٰی ہو اور باپ اس کا انکار کرے یا اس بچے کے لئے وصی ہو وہ انکار کرے یا کوئی متولی پر مسجد یا وقف شدہ مکان اور اس کی دیوار کا دعوٰی کرے یا یہ کہ اس نے پہلے متولی کی اجازت سے وقف پر اپنا مال خرچ کرنے کا دعوٰی کیا ہو تو ان پر قسم نہ ہوگی۔واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۷۹: ازشہر مدرسہ اہل سنت مسئولہ مولوی عبدالرحیم متعلم مدرسہ مذکور جمادی الآخر۱۳۳۰ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ(اﷲ تعالٰی آپ پر رحم فرمائے آپ کا کیافرمان ہے۔ت)کہ زید کا نکاح ہندہ سے ہو ااور اس سے ایك لڑکا عمرو پیدا ہوابقضائے الٰہی زید فوت ہوا والد زید خالد موجود ہے جو دادا عمرو کا ہوتا ہے اب بوجہ نزاع جائداد کے خالد دادا عمرو کا یہ قول ہے کہ زید کانکاح ہندہ سے نہیں ہوا تھا اور نیز قاضی جس نے نکاح پڑھایا تھا اس سے اس امر میں جھوٹ بلوانا چاہتا ہے کہ جھوٹی گواہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع