30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاعلی الوجہ الذی وجب لوکان بلا تحلیف القاضی لم یعتبر قط وان وقع علی الوجہ الواجب کما سلف وکذا لوکان بلا طلب المدعی۔فی جامع الفصولین اواخر الفصل الخامس عشر عن فتاوی رشید الدین القاضی لو حلف بغیر طلب المدعی ثم طلب المدعی تحلیفہ فلہ ان یحلفہ ثانیا [1]اھ فعلم ان وقوعہ لا علی الوجہ الواجب مستقل بالرد وان وقع بطلب المدعی وتحلیف القاضی۔ |
عدم اعتبار کو مرتب کیا ہے کہ قاضی کی طرف سے قسم طلب کئے بغیر صحیح طور بھی قسم ہوئی تو ہر گز معتبر نہ ہوگی جیساکہ گزرا ہے اور یونہی اگر وہ قسم مدعی کے مطالبہ کے بغیر ہوئی ہو، جامع الفصولین کی پندرہویں فصل میں فتاوٰی رشید الدین سے منقول ہے کہ قاضی نے اگر مدعی کے مطالبہ کے بغیر قسم لے لی،اور اس کے بعد مدعی نے قسم کا مطالبہ کیا ہو تو اس کو دوبارہ قسم کھلانے کا حق ہوگا اھ،تو معلوم ہوا کہ واجبی طور کے خلاف ہونا یہ نا اعتباری کی مستقل وجہ ہے اگرچہ یہ مدعی کے مطالبہ اور قاضی کے قسم لینے پر ہو۔(ت) |
پس صورت مستفسرہ میں لازم کہ حاکم امیر النساء بیگم سے دوبارہ حلف تام شرعیہ بروجہ صحیح وکافی لے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ وجل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۷۸:ازریاست رام پور تھانہ حجیانے متصل زیارت نعیم شاہ صاحب مرسلہ سید چھٹن میاں صاحب غرہ جمادی الاولٰی۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے ایك منزل مکان اپنا وقف کرکے زید کو متولی اس کا کردیا،زید قابض مکان مذکورہے،اب زید پر بکر نے دعوٰی ایك دیوار پچھیت وپاکھے مکان اپنے کا دائر کچہری کیا،زید نے بکر کی دیوار پچھیت وپاکھے سے انکار کیا،بکر نے حصر دعوی اپنے کا حلف زید پر کیا،زید کہتا ہےکہ میں مالك مکان موقوفہ نہیں ہوں مجھ پر شرعًا حلف متوجہ نہیں ہوتا ہے،پس دریافت کیا جاتا ہے کہ زید پرحلف شرعًا نسبت دعوٰی بکر آتا ہے یا بوجہ متولی اور غیر مالك مکان ہونے کے حلف متوجہ نہیں ہوتا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
فی الواقع صورت مستفسرہ میں زید متولی پر حلف متوجہ نہیں متولی پر حلف صرف اس وقت میں آتا ہے جب خود اس پر کسی عقد کا دعوٰی کیاجائے مثلًا کوئی مدعی ہو کہ فلاں زمین وقفی ا س نے میرے اجارے میں دی عقد تمام ہوگیا اور اب قبضہ نہیں دیتا یا اس کے مثل اور دعوٰی۔تنویر الابصار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع