30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولاشیئ منہ ولالہ قبلك حق منہ لانہ متی اتلفہ اودل انسانا علیہ لم یکن فی یدہ فیکون علیہ قیمتہ فلایکتفی بقولہ فی یدك بل یضم الیہ ولالہ قبلك حق منہ احتیاطا[1]۔ |
کا دعوٰی کرتا ہے وہ اس کا حق نہیں اور نہ اس میں سے کچھ اس کا حق ہے اور نہ ہی تیری طرف اس کا کوئی حق ہے کیونکہ جب اس نے امانت کو تلف کردیا ہو یا کسی اور کو دے دی اور اپنے قبضہ میں نہ ہو،تو اس صورت میں اس پر قیمت لازم ہوگی،توتیرے قبضہ والی بات کافی نہ ہوگی بلکہ اس کے ساتھ، اور تیری طرف کوئی حق اس کے لئے نہیں ہے،شامل کرنا بطور احتیاط ضروری ہے۔(ت) |
حلف دینا مدعی یا وکیل مدعی کا حق نہیں حق حاکم ہے حق مدعی حلف لینا یعنی طلب حلف ہے وبس،ولہذا اگر مدعی خودحاکم کے سامنے دارالقضاء میں بطور خود مدعا علیہ کو حلف دے لے مقبول نہیں اگر چہ وہ حلف بروجہ کافی ہی دیا گیا ہو۔عالمگیریہ میں ہے:
|
لوحلف بطلب المدعی یمینہ بین یدی القاضی من غیر استحالف القاضی فھذا لیس بتحلیف لان التحلیف حق القاضی کذافی القنیۃ وھکذافی البحر الرائق[2]۔ |
اگر مدعی از خود قاضی کی موجودگی میں مدعی علیہ سے قسم طلب کرے تو قاضی کی طلب کے بغیر قسم کھلانا جائز نہیں کیونکہ قسم کا مطالبہ اور قسم کھلانا قاضی کا حق ہے قنیہ اور بحر الرائق میں یوں ہے۔(ت) |
در مختا رمیں ہے:
|
المدعی لواسقطہ ای الیمین قصدا بان قال برئت من الحلف اوترکتہ علیہ اووھبتہ لایصح ولہ التحلیف بخلاف البرائۃ عن المال لان التحلیف للحاکم، بزازیۃ[3]۔ |
مدعی نے اگر مدعی علیہ سے قسم کو ساقط کرتے ہوئے کہا میں نے تجھے قسم سے بری کیا،یا،تجھ سے قسم لینا میں نے ترك کیا یا میں نے تجھے یہ حق ہبہ کردیا تو مدعی کا قصدا قسم کو ساقط کرنا صحیح نہ ہوگا کیونکہ قسم کھلانا قاضی وحاکم کا حق ہے،اس کے برخلاف اگر مدعی اس کو مال سے بری کردے تو جائز ہے بزازیہ۔(ت) |
اسی میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع