30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں ہر گز ایسا نہیں اگر بے تقید متروکہ مطلقًا قسم لیتے کہ فلاں فلاں اشیاء اس قیمت ووزن کی تیرے پاس نہیں وہ قسم کھانے سے انکار کرتی تو مطلق کا اقرار ہوتا جو مقید کا اقرار قرار نہ دیا جاسکتا تو نکول مہمل و فضول رہتا،جامع الفصولین میں ہے:
|
لایفید تحلیفہ لانہ لنکول ھو کاقرار[1]۔ |
اس کو قسم دینا مفیدنہیں کیونکہ اس کے انکار پر وہ اقرار قرار پائے گا۔(ت) |
عقود الدریہ میں ہے:
|
فائدۃ التحلیف القضاء بالنکول فاذالم یجز القضاء بالنکول عما ذکر فکیف یجوز التحلیف بہ لان التحلیف انما یقصد لنتیجتہ واذا لم یقضی بالنکول فلا ینبغی الاشتغال بہ وکلام العقلاء یصان عن اللغو کما اشار لذلك فی البحر المنح اھ [2]باختصار |
قسم کھلانے کا فائدہ انکار قسم پر فیصلہ کرنا مقصود ہے تو جہاں قسم کے انکار پر فیصلہ جائز نہ ہو قسم کھلانا کیونکر جائز ہوگا، کیونکہ مقصود نتیجہ خیز قسم ہے اور جب قسم کے انکار پر فیصلہ نہ کیا جاسکے تو قسم کا شغل نہ کیا جائے حالانکہ عقلاء کے کلام کو لغو ہونے سے بچایا جاتا ہے جیسا کہ اسکی طرف بحر اور منح میں اشارہ ہے اھ باختصار(ت) |
ان امور میں زیادہ نظر کی حاجت نہیں جبکہ بالبداہۃ آشکارا ہے کہ حلف مذکور محض ناکافی و مہمل واقع ہوا اور حکم حاکم دیوانی کی اصلًا تعمیل نہ ہوئی حاکم نے یادداشت میں صراحۃً یہ الفاظ لکھے تھے کہ کوئی چیز اس فہرست میں کے بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم پاس مدعا علیہا کے نہیں ہے نہ ضیاء النساء بیگم کے مرنے کے بعد مدعا علیہا کے قبضے میں آئی اس دوسرے فقرے پر مطلق لحاظ نہ ہوا صرف پاس نہیں موجود نہیں پر حلف لیا گیا جس نے حلف کو محض ناقص و ناقابل قبول کردیا ممکن کہ بعدانتقال ضیاء النساء بیگم اشیائے دعوٰی کل یا بعض قبضہ امیر النساء بیگم میں آئی ہوں اور اب موجود نہ ہوں اب اس کے قبضے میں نہ ہوں صرف کردی ہوں تلف کردی ہوں ہبہ کردی ہوں تو قبضہ موجودہ ووجود فی الحال کی نفی سے کیا کام نکلا لاجرم حلف میں مدعیہ کے لئے نظر یکسر متروك ہوئی اور اس کے حق تلفی صاف محتمل رہی۔جامع الفصولین میں ہے:
|
ذکرالخصاف فی دعوٰی الودیعۃ اذا لم تکن حاضرۃ یحلفہ باﷲ مالہ ھذا المال الذی ادعاہ فی یدك ودیعۃ |
خصا ف نے ذکر کیا ہے کہ امانت کے دعوٰی میں اگر چیز حاضر نہ ہوتو مدعٰی علیہ سے یوں قسم لی جائے کہ خدا کی قسم وہ مال جو تیرے قبضہ میں بطور امانت ہونے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع