30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں قبول کرلیں گے۔خانیہ میں ہے:
|
اذا ادعی کل الدار فشہد والہ بنصف الدار جازت شہادتھم ویقضی بالنصف من غیر توفیق[1]۔ |
مدعی نے کل مکان کا دعوٰی کیا تو گواہوں نے نصف مکان کی شہادت دی فیصلہ نصف مکان پر ہوگا بغیر موافقت پیدا کئے(ت) |
بخلاف دیگر اشیاء مخالفۃ الوزن والقیمۃ کہ وہ غیر مدعی بہا ہیں اور وزن وقیمت میں کم ہونا بعضیت نہیں ہر عاقل جانتا ہے کہ مثلًا دو تولے سونے کے دوبالے قیمتی ساٹھ روپے اور دو بالے ایك تولے سونے کے تیس روپے قیمت کے ہوں،یہ بالے ان کے بعض و جز نہیں بلکہ غیر وجدا چیز ہیں،شیئ غیر حاضر میں ذکر وزن و قیمت اس کی تعریف و تعیین ہی کے لئے ہے تو اس کا غیر معین کا غیر ہے نہ جز۔ہدایہ میں ہے:
|
لایقبل الدعوٰی حتی یذکر شیئا معلوما فی جنسہ وقد رہ لان فائدۃ الدعوی الالزام،بواسطۃ اقامۃ الحجۃ والالزام فی المجہول لایتحقق فان کان عینا فی ید المدعی علیہ کلف احضارھا لیشیر الیہا بالدعوی وکذا فی الشہادۃ والاستحلاف لان الاعلام باقصی ما یمکن شرط وذٰلك بالاشارۃ فی المنقول، وان لم تکن حاضرۃ ذکرقیمتہا لیصیر المدعی معلوما لان العین لاتعرف بالوصف والقیمۃ تعرف بہ[2]۔ |
جنس اور قد رمیں معلوم چیز کے ذکرکے بغیر دعوٰی قبول نہ ہوگا کیونکہ دعوٰی کا فائدہ حجت کے ذریعہ الزام قائم کرنا ہے اور مجہول کا الزام متحقق نہیں ہوسکتا اور اگر وہ چیز مدعٰی علیہ کے قبضہ میں ہوتو اس کو حاضر کرنے کا پابند بنایا جائے گا تاکہ مدعی اس کی طرف دعوٰی کرتے ہوئے اشارہ کرسکے،اور شہادت اور قسم میں بھی ایسے کیا جائے کیونکہ تمام مراحل میں ہرممکن حد تك تعارف ضروری ہے اوریہ منقول چیزمیں اشارہ سےہی حاصل ہوسکتا ہے اگر وہ چیز حاضر نہ ہو تو اس کی قیمت ذکر کرے تاکہ مدعا واضح ہوسکے کیونکہ خاص چیز کا تعارف اس کے وصف سے نہیں بلکہ اس کی قیمت سے ہوتا ہے(ت) |
ہندیہ میں ہے:
|
اذاادعی جوھرا لابد من ذکر الوزن اذاکان غائبا وکان المدعی علیہ |
اگر کسی جوہری چیز کا دعوٰی ہوتو اس کے وزن کا ذکر ضروری ہے اگر وہ غائب ہواور مدعا علیہ اس کے قبضہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع