30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمائے جائیں کہ مدعا علیہا سے اسی طرح حلف لیا جائے کہ اشیائے مندرجہ فرد منسبلکہ حسب وزن وقیمت مندرجہ فرد متروکہ ضیاء النساء بیگم سے کل یا جز و یعنی کوئی چیز اس فہرست میں کی بابت متروکہ ضیاء النساء بیگم کے پاس مدعا علیہا کے نہیں ہے نہ ضیاء النساء کے مرنے کے بعد مدعا علیہا کے قبضہ میں آئی اشیاء مندرجہ کی قیمت اور وز ن او ر تعداد اول مدعا علیہا کو سنا کر بمواجہہ وکلاء فریقین حلف لیا جائے۔دستخط حاکم نقل یادداشت محکمہ گیرندہ حلف حسب صدور حکم اجلاس اعلٰی مثبتہ ناصیہ یا دداشت حاکم عدالت دیوانی ضلع بمقدمہ خیرالنساء بیگم مدعیہ موسومہ امیر النساء بیگم مدعا علیہا بدعوی دہایندگی سہ سہام منجملہ۱۸سہام مالیتی مبلغ(ما ع صما)روپیہ از کل جائداد منقولہ متروکہ مسماۃ ضیاء النسا بیگم واقع شہر رام پور قیمتی(صہ ع؎ً)روپیہ فہرست منسبلکہ زیور و ظروف وغیر ہ حرفًا حرفًا مدعا علیہا کو بمواجھہ وکلاء فریقین بشناخت صاحبزادہ فرخ طور خاں بہادر مدعیہ سنائے گئے اور قرآن شریف ہاتھ میں دیگر بموجب منشاء مضمون یا دداشت عدالت دیوانی متوجہ بحلف کیاگیا مدعاعلیہا نے ہر ایك عدد زیور طلائی و نقرئی و دیگر سامان نقرئی مندرجہ فہرست معہ تعداد وزن وقیمت سن کر بحلف بیان کیا کہ کل اشیائے زیور طلائی ونقرئی و دیگر سامان نقرئی اس قیمت اور اس تعداد اور اس وزن کا میرے پاس نہیں ہے اور کل پارچہائے پوشیدنی قسم گوٹہ وغیرہ ہر ایك تفصیل وار سن کر بحلف کہا کہ میرے پاس اس تعدد اور اس قیمت کے نہیں ہیں جملہ سامان فروش تفصیل وار سن کر دو غلیچہ رنگ سیاہ قیمتی ( ؎عہ)روپیہ کی نسبت حلفًا کہا کہ میرے پاس ہیں لیکن اس قیمت کے نہیں ہیں باقی کل قسم فرش کے بابت حلف مذہبی نسبت عدم موجودگی کیا سامان چوبی مفصلًا مدعاعلیہا کوسنایا گیا منجملہ کل سامان کے بیس عدد چوکیاں چوب سار قیمتی مبلغ تیس روپے کی نسبت حلف سے انکار کیااور دو پلنگ نواڑ کلاں قیمتی مبلغ بیس روپے کی نسبت مدعا علیہا نے بحلف کہا کہ میرے پاس ہیں لیکن قیمت کا حال معلوم نہیں مابقی کل سامان چوبی کی عدم موجودگی پر حلف لیا چونکہ کارروائی حلف کی بہ تعمیل حکم اجلاس اعلٰی حسب منشاء عدالت دیوانی ہوگئی لہذا جملہ کاغذات ذریعہ یادداشت ہذا باجلاس اعلٰی نواب مدارالمہارم صاحب بہادر مرسل ہیں فقط دستخط حاکم بینواتوجروا۔
الجواب:
کل یا جز سے مراد یہی ہے کہ اشیائے مدعی بہا جمیع یا بعض نہ یہ کہ خود وہ اشیاء یا ان سے کم وزن و قیمت کی چیزیں خود عبارت حاکم دیوانی میں تفسیر موجود تھی کہ اشیائے مندرجہ فرد حسب وزن وقیمت مندرجہ فرد سے کل یا جز یعنی کوئی چیز اس فہرست میں کی اور یہی طریقہ مقررہ استحلاف ہے کہ احتیاط بعض دعوٰی بھی شامل حلف کرلیتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع