30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حق القاضی مع طلب الخصم ولاعبرۃ لیمین ولا نکول عند غیر القاضی[1]۔ |
مخالف کے مطالبہ پر قسم صرف قاضی کا حق ہے غیر قاضی کے پاس قسم یا قسم سے انکار کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
الیمین کالخلف عن البینۃ فاذاجاء الاصل انتہی حکم الخلف [2]۔و اﷲ تعالٰی اعلم۔ |
قسم گویا گواہی کا خلف ہے تو جب اصل آجائے تو خلیفہ کا حکم ختم ہوجاتا ہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۷۶: ازریاست رامپور مرسلہ سید نصیرالدین صاحب ۱۴/شوال مکرم ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے عمرو پر بلاتحریر دستاویز بربنائے شہادت گواہان دس روپے کی نالش دائر کی اور تاریخ موعود پر گواہان ثبوت دعوٰی کو بذریعہ کچہری کے طلب کرایا اس تاریخ پر کسی وجہ سے سماعت بیان گواہان کی نہ ہوئی اور تاریخ دوسری کچہری نے واسطے حاضر کرنے انہیں گواہان ثبوت کے مقرر کئے اور عمرو مدعاعلیہ کو دعوٰی مدعی سے قطعی انکار ہے جب کہ تاریخ ثانی ادخال شہادت کے واسطے مقرر ہوئی تو مدعی نے اس تاریخ پر ایك درخواست کچہری میں پیش کی کہ مدعاعلیہ کا حلف لیاجائے گواہ اپنے سنوانا نہیں چاہتا،تو اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ایسی صورت میں مدعاعلیہ حلف اٹھانے پر مجبور کیاجاسکتا ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر گواہ شہر میں موجود ہیں تو مدعاعلیہ سے حلف نہیں لے سکتا بلکہ مدعی ہی سے گواہ لئے جائیں گے اور اگر دور ہیں تو حلف مانگ سکتا ہے،
|
فی الدرالمختار قال المدعی لی بینۃ حاضرۃ فی المصرو طلب یمین خصمہ لم یحلف ولو غائبۃ عن المصر حلف وقدر فی المجتبٰی الغیبۃ بمدۃ |
درمختار میں ہے مدعی نے کہا میرے گواہ شہر میں ہیں،اس کے بعد اس نے مدعٰی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا تو قسم نہ لی جائیگی،ہاں اگرشہرمیں موجود نہ ہوں تو قسم لے لی جائیگی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی کے قول پر،بعض نے فرمایا کہ گواہوں کا مسافت سفر تك غائب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع