30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جبکہ مبیع ہلاك یا معیب بعیب فاحش ہوگئی ہے تحالف نہیں بلکہ بائع سے گواہ لئے جائیں گے اگر اس نے بینہ شرعیہ سے ثابت کردیا کہ دو روپے ثمن ٹھہرے تھے تو وہی دینے ہوں گے اور اگر نہ دے سکا تو مشتری سے قسم لی جائیگی، اگر اس نے حلف کرلیا کہ ایك ہی روپیہ قرار پایا تھا تو ایك ہی دینا آئے گا اور حلف سے نکول و انکار کیا تو دو روپے کی ڈگری کی جائیگی،
|
فی الدرالمختار لاتحالف اذااختلفا بعد ھلاك المبیع اوخروجہ عن مبلکہ او تعیبہ بما لایرد بہ وحلف المشتری[1]۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
درمختار میں ہے مبیع کے ہلاك ہوجانے یا مشتری کی ملکیت سے نکل جانے کے بعد یا ایسے عیب پید اہونے کے بعد جس کی وجہ سے واپس نہ ہوسکے اختلاف ہوتو دونوں سے قسم جائز نہیں اور مشتری سے قسم لی جائے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۷۵: از ہلدوانی مرسلہ منشی ولایت حسین صاحب ٹھیکہ دار ۶جمادی الآخرہ ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس امر میں کہ زید نے اپنا مال بکر کے پاس امانت رکھا،جب بکر سے طلب کیا تو بکر نے مال دینے سے انکار کیا بوجہ مال نقد اور زیور ہونے سے زید نے حاکم وقت کے یہاں دعوٰی دائر کیا اور گواہان ثبوت حاکم کے روبرو حاضر کئے بکربوجہ کرنے انکار کے قسم شرعی کھانے کو موجود ہے،جب ثبوت مدعی موجود ہووے تو بموجب حکم شرع شریف کے بکر قسم کھاسکتا ہے یانہیں یا موجودگی شہادت مدعی کے فقط۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں اگر بکر بطور خود قسم کھانا چاہتا ہے تو محض نامسموع،اگر کھابھی لے گا دعوی مدعی کو نقصان نہ پہنچے گا،اور اگر بکر سے زید قسم لیتا ہے تو اسے بھی اس کااختیار نہیں اور اس حالت میں بھی یہ قسم ناقابل سماعت،قسم مدعا علیہ کا وقت جب ہے کہ مدعی نے شہادت مقبولہ نہ پیش کی ہو۔درمختار میں ہے:
|
اصطلحا علی ان یحلف عند غیر قاض ویکون بریئًا فھو باطل لان الیمین |
مقدمہ کے فریقین نے اتفاق کرلیا کہ کسی غیر قاضی کے سامنے قسم کھاکر بری ہوجائے تو یہ باطل ہے کہ فریق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع