30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۷۳: مرسلہ صفدر علی صاحب ۱۴/شوال ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علماء ومفتیان دین اس مسئلہ میں کہ ایك موضع شراکت زید اور عمرو چلا آتا تھا اور زید بوجہ نمبرداری اس پر قابض اور دخیل تھا زید نے بلا اجازت عمرو کے ایك باغ جو واقعہ موضع مذکور تھا فروخت کرکے قیمت اپنے تصر ف میں لایا اور عمرو کو بابت حصہ اس کے کچھ نہ دیا جواب عمرو نے تقسیم موضع مذکور کی کرائی تو یہ امر معلوم ہوا جب عمرو نے اپنے حصہ کا مطالبہ زید سے طلب کیا تو زید نے عذر تمادی کا پیش کیا،صورت ہذا میں حقوق عمرو کا عنداﷲ ذمہ زید کے ہے یانہیں؟بینواتوجروا (بیان فرمائے ثواب پائے۔ت)
الجواب:
بیشك ہے اور عذر تمادی محض باطل و مہمل،
|
فی الاشباہ الحق لایسقط بتقادم الزمان[1]۔ |
اشباہ میں ہے کہ زمانہ قدیم ہوجانے پر حق ساقط نہ ہوگا۔ (ت) |
زید سخت گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا کہ عمرو کا حصہ بے اس کی اجازت کے بیچ کر کھاگیا،
|
قال اﷲ تعالٰی "وَلَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالْبٰطِلِ"[2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:آپس میں ایك دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔(ت) |
اب دوسر اگناہ عظیم یہ جھوٹا عذر مردود پیش کرتا ہے اﷲعزوجل سے ڈرے اور روز قیامت کی سخت شدتیں ناردوزخ کے قہر عذاب اپنے سر نہ لے۔
مسئلہ۷۴: ۱۰/ذیقعدہ۱۳۱۲ھ
زید نے عمرو سے ایك شے ایك روپے کو خریدی،زید نے پوچھا یہ شیئ کتنے کو دوگے،اس نے کہاایك روپے کو،مشتری اس کو خرید کے گھر لے آیابطور قرض،دوسرے روز جب دام دینے گیا تو بائع نے کہا میاں!میں نے تو اس کے دو روپے کہے تھے،مشتری کو اس امر میں کہ بائع نے اس کے دریافت پر وقت بیع کے ایك روپیہ کہا ذرا بھی شك نہیں،اب شے مبیعہ یا ہلاك ہوگئی ہے بلکہ نہیں معیب بعیب فاحش ہے زرثمن یا اصل مبیعہ کا کس طرح فیصلہ ہے بائع ومشتری دونوں نمازی اور ایکدوسرے کے نزدیك موتمن بھی ہیں۔بینواتوجروابالروایۃ الصحیحۃ وھی لکم عندالحساب اجر وذخیرۃ(بیان کرو اجر پاؤ،صحیح روایت سے ہو اور وہ تمہارے لئے روز حساب اجر اور ذخیرہ ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع