30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لما صرح بہ علماؤنا من عدم الاعتماد علی الخط وعدم العمل بہ [1] اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہمارے علماء نے فرمایا ہے کہ نہ خط پر اعتماد ہے نہ اس پر عمل کیا جائے اھ،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ۷۲: ازپیلی بھیت محلہ پنجا بیاں مرسلہ جناب شیخ عبدالعزیز صاحب ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر ورثاء میں سے شوہر دعوٰی کرے کہ فلاں زیور میں نے اس کو کل یا جز بنواکر استعمال کے واسطے دیا تھا اور اسی طرح سے اس کے والدین وغیرہ دعوٰی کریں کہ فلاں فلاں زیور اور دیگر اشیاء ہم نے اس کے جہیز میں دی تھیں اس کے استعمال کے واسطے،وہ ہم کو واپس ملنی چاہئیں،کیا یہ دعویدار اپنے دعوے کے موافق مستوجب واپسی کے ہوسکتے ہیں اور عنداﷲ استحقاق واپسی ان کو حاصل ہے یانہیں؟ بیان فرمائیے ثواب پائیے۔
الجواب:
والدین کا دعوٰی کہ ہم نے فلاں شیئ جہیز میں عاریۃً دی تھی بے شہادت عادلہ مسموع نہیں کہ خلاف عرف ظاہر وناشی ہے،شوہر کا قول سن لیاجائیگا،جو زیور اس نے بنواکر دیا جب وہ تملیك کردینے کا مقر نہیں تو بغیر شہادت عادلہ ملك ہندہ ثابت نہ ہوگی،لان الدافع ادری بجھۃ الدفع ولاعرف قاضیا ھٰھنا۔کیونکہ دینے والا بہتر جانتا ہے کہ اس نے کس طرح دیا ہے جبکہ یہاں واضح عرف نہیں جس پر فیصلہ دیا جائے۔(ت)درمختار میں ہے:
|
جھزابنتہ بجھاز وسلمھا ذٰلك لیس لہ الاسترد اد منھا وبہ یفتی والحیلۃ ان یشھد عندالتسلیم الیہا انہ انما سلمہ عاریۃ[2]۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
بیٹی کو جہیز دیا اور اس کو سونپ دیا تو اب والد کو واپسی کا حق نہیں ہے،فتوی اسی پر ہے،اور واپسی کا حیلہ یہ ہے جہیز دیتے ہوئے گواہ بنالے کہ میں نے یہ عاریتًا دیاہے۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع