30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالشفعۃ ھذااذاقال وھبتك علی ان تعوضنی کذا اما لو قال وھبتك بکذا فھو بیع ابتداء وانتہاء [1]اھ اختصار۔ |
ہوسکتا ہے اور شفعہ کے دعوٰی پر لیا جاسکتا ہے یہ حکم اس صورت میں ہے کہ ہبہ دینے والا،کہے یہ چیز میں تمہیں فلاں چیز کے عوض ہبہ کرتا ہوں اور اس نے اگر یوں کہا ہو کہ میں تجھے ہبہ کرتا ہوں،تو یہ ابتداءً وانتہاءً بیع ہے اھ اختصار(ت) |
ثانیًا: اگر بفرض باطل قبضہ کی حاجت بھی ہو تو جبکہ شہادت شرعیہ کافیہ سے قبضہ ہندہ رنگ ثبوت پائے اس پر ان عبارات سے ایراد محض جہل وعناد،مستدلوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ علماء مافی یدھا فی یدہ فرمارہے ہیں یعنی جو کچھ عورت کے قبضے میں ہے وہ ازانجا کہ عورت خود قبضہ شوہر میں ہے بالواسطہ قبضہ شوہر میں ہے کہ "مقبوض المقبوض مقبوض" اس میں صراحۃً قبضہ زن کا اثبات اورا س کے ذریعہ سے قبضہ شوہر کاقرار داد ہے نہ کہ قبضہ زن کی راسًا نفی۔علماء نے "مافی یدھا" فرمایا ہے نہ کہ "لیس فی یدھا"۔
ثالثًا: ایسا ہو تو خود قبضہ شوہر بھی منتفی ہوجائے گا اور کلام اپنے مقصود پر نقص کرتا پلٹ آئے گاکہ قبضہ شوہر بواسطہ قبضہ زن مانا تھا بقیاس مساوات کے "قابض القابض قابض" جب سرے سے قبضہ زن منفی ہوجائیگا قبضہ شوہر کہ اس کے واسطے سے تھا کہا ں سے آئیگا ھل ھذا الاجھل مبین(یہ کھلی جہالت ہے۔ت)تو خودیہی روایات کہ ڈگری داروں نے پیش کیں ان کا صریح رد ہیں۔
رابعًا: کلام علماء باب حدیث انت ومالك لابیک[2]سے ہے جیسے بیٹے کےلئے ارشاد ہوا کہ وہ اور اس کا مال سب اس کے باپ کا ہے کوئی عاقل اس سے یہ وہم نہیں کرسکتا کہ بیٹے کی ملك کی نفی فرمائی ہے ایسا ہوتو باپ بیٹے کا وارث نہ ہوسکے، اورآیہ کریمہ "وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وٰحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ"[3] (ور میت کے ماں باپ ہر ایك کو اس کے ترکہ سے چھٹا۔ت)کا معاذاﷲ صاف انکار لازم آئے کہ ارث ترکہ مورث میں جاری ہوگی اور ترکہ مثبت ملك جب ملك منتفی توارث کہاں،یونہی علماء کے اس کلام سے کہ زن ومقبوضات زن سب مقبوض شوہر ہیں قبضہ زن کے نفی کی طرف کسی ذی عقل کا گمان نہیں جاسکتا بلکہ وہ حقیقی بالذات ہے اور یہ حکمی بالواسطہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع