30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۷۰: ازریاست رام پور متصل مسجد جامع مرسلہ بیچے خان ۱۴ذی القعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرصہ تخمینًا تین سال کا ہوا کہ مسمی زید نے چند قطعہ مکانات واقع شہر رام پور بنام مسماۃ ہندہ زوجہ خود بعوض دین مہر بیع کرکے بیعنامہ بنام ہندہ تحریر کردیا اور حسب قاعدہ رجسٹری کرادی اور قبضہ بھی مکانات پر ہندہ کا کرادیا اور زید خود ایك موضع میں رہنے لگا بعد ازاں زید کی زوجہ متوفیہ اولٰی کے بطن سے جواولاد ہے اس نے بابت حق وحصہ شرعی منجملہ دین مہر یا فتنی والدہ خود ذمگی زید کے زید پر کچہری میں نالش کرکے کچہری سے ڈگری حاصل کی اور ڈگری مذکور جاری کراکے صیغہ اجرائے ڈگری میں مکانات مذکورہ کو قرق کرایا،قاعدہ مروجہ کچہری یہ ہے کہ اگر کوئی جائداد صیغہ اجراء ڈگری میں قرق کی جائے اور کوئی شخص بربنائے قبضہ مستقلًا نہ اس کی بابت عذر کرے تو بشرط ثبوت قبضہ مستقلًا نہ عذر دار کی وہ جائداد قرقی سے واگزاشت ہوجاتی ہے،اب مسماۃ ہندہ نے نسبت قرقی مکانات اپنے کے کچہری میں عذر داری کی کہ یہ مکانات مملوکہ و مقبوضہ میرے ہیں،قرقی سے واگزاشت فرمائے جائیں ثبوت میں بیعنامہ اقراری زید اور بہت سے گواہان پیش کئے کہ جن کی شہادت سے مالك وقابض ہونا ہندہ کا بموجب بیعنامہ بذریعہ سکونت ومرمت مکانات ووصول کرایہ اور حسب اقرار زید کے ثابت ہے،سوالات جرح میں گواہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ زید گاؤں میں رہتا ہے،کبھی کبھی رامپور میں آتا ہے تو اپنی زوجہ مسماۃ ہندہ اور اپنی اولاد کے پاس انہیں مکانات میں ٹھہرتا ہے دوچار روز رہ کرپھر گاؤں کو چلاجاتا ہے ڈگری داران حجت پیش کرتے ہیں کہ حسب روایات فقہ مندرجہ ذیل قبضہ ہندہ کا نہیں ہے شرعًا زوجہ مع متاع خود بقبضہ شوہر ہے لہذا مکانات بھی مقبوضہ شوہر ہیں روایات:
|
لان المرأۃ ومافی یدھا فی یدالزوج [1]۱۲ بحرالرائق۔ وفی الاشباہ ھبۃ المشغول لایجوز الااذا وھب الاب لطفلہ[2] قلت وکذا الدارالمعارۃ والتی وھبتھا لزوجہا علی المذہب لان المرأۃ ومتاعھا فی یدالزوج فصحت التسلیم |
کیونکہ عورت اور اس کے زیر قبضہ تمام خاوند کے قبضہ میں ہے،بحرالرائق۔اور اشباہ میں ہے کہ مشغول چیز کا ہبہ ناجائز ہے مگر وہ کہ والد نے نابالغ لڑکے کے لئے کیا ہو،اور میں کہتا ہوں یوں ہی جب مکان عاریتًا ہو اور وہ مکان جو بیوی نے خاوند کو ہبہ کیا ہو،یہ مذہب ہے کیونکہ عورت اور سامان خاوند کے قبضہ میں ہے تو ہبہ پر قبضہ صحیح ہوجائیگا، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع