30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یکون برضازید ان یتصرف عمرو فی حق زید من دون ان یکون لعمروفیہ حق یجبر علیہ۔ |
مرضی سے عمرو نے اس کے حق میں تصرف کیا ہوا اور وہ عمرو کی ملك نہ ہو جس پر مجبور کیا جاسکے۔(ت) |
اور اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو زوجہ زید سے قسم لی جائے کہ عمرو کوغیر بارانی پانی اس مکان زید میں بہانے کا حق نہیں اگر وہ قسم کھانے سے حاکم کے حضور انکار کرے گی عمرو کا حق ثابت ہوجائے گا۔
|
فی الھندیۃ ادعی علی اٰخر حق المرور ورقبۃ الطریق فی دارہ فالقول قول صاحب الدار ولو اقام المدعی البینۃ انہ کان یمر فی ھذہ الدار لم یستحق بھذا شیئاکذافی الخلاصۃ [1]فان اقام البینۃ علی ان لہ حق المسیل وبینواانہ لماء المطر من ھذاالمیزاب فہو لماء المطر و لیس لہ ان یسیل ماء الاغتسال والوضوء فیہ وان بینواانہ لماء الاغتسال والوضوء فھو کذٰلك ولیس لہ ان یسیل ماء المطرفیہ وان قالوالہ فیہا حق مسیل ماء ولم یبینو الماء المطر او غیرہ صح والقول لرب الدار مع یمینہ انہ لماء المطراولماء الوضوء والغسالۃ کذافی محیط السرخسی[2]، و لو لم تکن للمدعی بینۃ اصلا استحلف صاحب الدار و یقضی فیہ بالنکول کذافی الحاوی[3]ولو اراد اھل الداران یبنوا حائطالیسد وا مسیلہ لم یکن لھم ذلك کذافی البدائع [4]اھ ملتقطا واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہندیہ میں ہے ایك شخص نے دوسرے پر دعوٰی کیا کہ مجھے یہاں سے گزرنے کا حق ہے حالانکہ راستہ مدعی علیہ کی حویلی میں ہے تو حویلی والے کی بات معتبر ہوگی اور اگر مدعی یہ گواہی بھی پیش کردے کہ وہ یہاں سے گزرتا تھا تو اس کا حق ثابت نہ ہوگاخلاصہ میں یوں ہے اگر وہ گواہی پیش کردے کہ مجھے یہاں سے پانی بہالیجانے کا حق ہے تو گواہوں نے اگر کہا کہ اس پر نالہ سے بارش کا پانی یہاں بہتا ہے تو صرف بارش کا ثابت ہوگا اس کوغسل ووضو کا پانی وہاں بہا لیجانے کا حق نہ ہوگا اور اگر گواہوں نے غسل ووضو کے پانی کے متعلق بیان کیا تو بارش کا پانی گزارنے کا حق نہ ہوگا اور اگر انہوں نے مطلقًا پانی بہنے کی بات کی ہو بارش یا غسل وغیرہ کا ذکر نہ کیا تو بیان صحیح ہوگا جبکہ اس صورت میں حویلی والے کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی کہ وہ پانی بارش کا ہے یا غسالہ کا پانی ہے جیسا کہ محیط سرخسی میں ہے،اگر مدعی کے پاس کوئی گواہ نہ ہوتو حویلی والے سے قسم لی جائیگی اور اگر وہ قسم سے انکار کرے تو اس پر فیصلہ دیاجائیگا،حاوی میں یوں ہے،اگر حویلی والے چاہیں کہ پانی روکنے کے لئے دیوار بنادیں تو ان کو یہ اختیار نہ ہوگا،بدائع میں یوں ہے اھ ملتقطًا واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
[1] فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰۴
[2] فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰۴
[3] فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰۴
[4] فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۰۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع