30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نوبت کچہری میں نالش کی پہنچی اب پھر سہ بار پنچایت قرار پائی اس صورت میں ان پنچوں کو اگلے فیصلوں کی نسبت کیاکرنا چاہئے انہیں بحال رکھیں یا وہ منسوخ ہوگئے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
کسی کو پنچ کرکے جب تك وہ فیصلہ نہ کرے ہر فریق کو اس کی پنچایت سے عدول کا اختیار ہوتا ہے مگر جب اس نے حکم کردیا اب وہ فریقین کو لازم ہوگیا اس سے پھر نے کادونوں میں سے کسی کواختیار نہیں ہوتا قانونی نفاذ ہونا کچھ ضرور نہیں تو صرف بربنائے انحراف فریقین وہ فیصلے منسوخ نہیں ہوسکتے ان پنچوں کو چاہئے ان فیصلوں کو دیکھیں ان میں جو فیصلہ مطابق شریعت موافق مذہب حنفی ہو،پنچوں پر لازم ہے کہ اسے نافذ کریں بحال رکھیں کہ موافق شرع کا خلاف مخالف شرع ہوگا اور مخالف شرع فیصلہ دینے کا کسی کو اختیار نہیں،اور اگر دونوں فیصلے خلاف مذہب تھے تو پنچوں پر لازم ہے کہ انہیں کرکے موافق شرع فیصلہ کریں،
|
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار ینفرد احدھما بنقض التحکیم بعد وقوعہ(قبل الحکم) فان حکم لزمھما ولا یبطل حکمہ بعزلھما لصدورہ عن ولایۃ شرعیۃ [1]اھ ملتقطا وفی ردالمحتار عن بحرالرائق لو رفع حکمہ الی حکم اخرحکماہ بعد فالثانی کالقاضی یمضیہ ان وافق رأیہ والاابطلہ [2]اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
تنویر الابصار،درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ ثالث کے فیصلہ سے قبل فریقین میں سے ہر ایك کو ثالثی ختم کرنے کا اختیار ہے اور ثالث نے فیصلہ سنادیا تو دونوں فریقوں پر لازم ہوجائیگا اور اب وہ حکم فریقین کے کالعدم کرنے سے باطل نہ ہوگا کیونکہ وہ فیصلہ شرعی ولایت کی بنیاد پر صادر ہوا ہے اھ ملتقطًا، اور ردالمحتار میں بحرالرائق سے منقول ہے کہ اگر فریقین ثالثی فیصلہ کو بعد میں اپنے بنائے ہوئے کسی دوسرے ثالث کے پاس پیش کریں تو وہ اس فیصلہ کو نافذ کرنے میں قاضی کی طرح ہوگا اگر اس کی رائے کے موافق ہو تو نافذ کردے ورنہ باطل کردے اھ۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع