30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی حقیت علیحدہ تھی اور اب ہے کوئی عذر کسی قسم کا نہیں کیا بعد اس کے امیر حسن خان نے ۵بسوانسی منجملہ ۵بسوہ خرید کردہ اپنے کے ایك مسجد کے نام وقف کردیں،کسی نے کوئی عذر نہیں کیا ان سب کارروائیوں سے وارثان محمد میر خاں بخوبی آگاہ اور واقف تھے اب وارثان محمد میر خاں نے دعوٰی کیا ہے کہ یہ جائداد بالعوض دین مہر کے دی گئی مگر حین حیات یعنی مسماۃ اپنی حیات تك اس کی مالك تھی اور بعد وفات مسماۃ کے جائداد مذکور بالا وارثان محمد میر خاں کو پہنچی،آیا اس حالت میں یہ جائداد ورثائے شوہر مسماۃ کو شرعًا واپس ہوسکتی ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں وہ جائداد ہر گز ورثائے شوہر کو واپس نہیں ہوسکتی،نہ ان کا دعوٰی اصلًا سنا جائے گا کہ وہ صریح حیلہ و فریب ہے اور بعوض دین مہر جو کچھ جائداد دی جائے وہ بیع ہے اور بیع کا مشتری کے حین حیات تك ہونا کیا معنی،یہ محض مہمل و بیہودہ عذر ہے،فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
قال صاحب المنظومۃ اتفق اساتیذناعلی انہ لاتسمع دعواہ ویجعل سکوتہ رضی للبیع قطعا للتزویر والاطماع والحیل والتلبیس وجعل الحضور وترك المنازعۃ اقرار بانہ ملك البائع،وقال فی جامع الفتاوٰی وذکر فی منیۃ الفقہاء رأی غیرہ یبیع عروضا فقبضہا المشتری وھو ساکت وترك منازعتہ فھو اقرار منہ بانہ ملك البائع انتھی[1]۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
صاحب منظومہ نے فرمایا ہمارے اساتذہ کا اتفاق ہے کہ اس کا دعوٰی مسموع نہ ہوگا اور اس کے سکوت کو بیع پر رضامندی قرار دیا جائے گا تاکہ جعل سازی اور لالچ،دھوکہ دہی اور حیلے ختم کئے جاسکیں اور اس کی موجودگی اور منازعت نہ کرنا اس بات کا اقرار قراردیا جائے گا کہ یہ بائع کی ملکیت تھا،اور جامع الفتاوٰی میں فرمایا اور منیۃ الفقہاء میں مذکور ہے کہ ایك شخص دوسرے کو سامان فروخت کرتے ہوئے دیکھ رہا ہو تو مشتری کے قبضہ کرنے پر وہ خاموش رہااور منازعت نہ کی تو وہ اس بات کا اقرار ہے کہ یہ بائع کی ملکیت ہے اھ۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۶۸: ۱۳ جمادی الاولٰی ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو میں باہم نزاع تھی دونوں نے برضائے خود پنچایت کی پنچوں نے فیصلہ کردیا مگر انگریزی طور پر اس کا نفاذ نہ ہوا فریقین پھر متنازعہ کرتے رہے دوبارہ پھر پنچایت برضائے فریقین ہوئی نفاذ اس کا بھی قانونی طور پر نہ ہوا تھا لہذا فریقین کو گنجائش انحراف رہی یہاں تك کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع