30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوگا شروع ۱۳۰۶ھ ف تك جبکہ سید محمد افضل صاحب پیلی بھیت گئے ہیں جو رقم سید فرحت علی صاحب کی یافتنی ذمہ فریقین تھی اس میں سے بعد ادا آخر ۱۳۰۹ھ ف تك جو کچھ باقی رہا جو حسب بیان سید محمد احسن صاحب مجموع(صماء) روپے اور حسب بیان سید محمد افضل صاحب مجموعی دو سو(مال)یا ڈھائی سو(مال ٭)یہ قرضہ بھی پانسوکی مقدار تك جتنا ثابت ہو سید محمد افضل وسید محمد احسن صاحبان پر نصفا نصف ہے ان تینوں مدات مذکور ہ کے سو باقی قرضے سے فریقین بری ہیں۔
(۱۱)آخر ۱۳۰۹ھ ف تك بابت جملہ حساب کتاب فریقین میں ایك کے دوسرے پر یا فتنی محسوب ومجرا ہوکر ایك ہزار سات سواٹھانوے روپے د وآنے تین پائی اور ایك پائی کے آٹھ حصوں سے تین حصے سید محمد احسن صاحب پر سید محمد افضل کے یافتنی نکلے یہ سید محمد احسن صاحب رقم مذکور ان سید محمد افضل صاحب کو ادا کریں ۱۳۱۰ھ فصلی کا حساب بابت توفیر دیہہ علیحدہ ہے فقط ۹/ربیع الاول شریف ۱۳۲۱ھ مطابق ۱۶/جون ۱۹۰۳ء
مسئلہ۶۷: ازپیلی بھیت محلہ بھورے خاں مرسلہ امیر حسن خان صاحب ۲۲/ ربیع الاول شریف ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اسلام و شرع متین اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ مسمی حافظ محمد میر خان نے منجملہ ۱۰بسوہ ۱۳بسوانسی ۶کچوانسی۱۳ انوانسی۷ننوانسی کے ۵بسوہ حقیت زمینداری موضع منڈریا پر گنہ پیلی بھیت وایك منزل مکان مسکونہ واقع پیلی بھیت قیمتی(معمہ۷۰۰۰ /)اپنی زوجہ مسماہ اشرف بیگم کو بالعوض دین مہر تعدادی(٭۵۰۰۰ ّ)روپے کے دے کر داخل خارج کراکر قبضہ مستقل دے دیا اس کے بعد محمد میر خاں ساڑھے چار برس زندہ رہے بعد انتقال محمد میر خاں کے جو ۵بسوہ۱۳بسوانسی۶کچوانسی۱۳ انسوانسی۷ننوانسی ودیگر جائداد معافیات وغیرہا بنام محمد میر خان کے تھی اس میں سے حق چہارم مسماۃ اشرف بیگم کو ملا اور بقیہ ورثائے محمد میر خان پر تقسیم ہوگئی مسماۃ اشرف بیگم کل جائداد مذکورہ بالا پر ساڑھے انیس برس مالکانہ قابض ودخیل رہی بعد اس کے جائداد مذکورکو مسماۃ مذکور نے مختلف ایام میں اپنی حیات میں بدست امیر حسن خان بالعوض مبلغ(معہ۷۰۰۰)روپے کے فروخت کرکے داخل خارج وغیرہ اپنی موجودگی میں بنام امیر حسن خان کرادیا وقت بیع سے اس وقت تك امیر حسن خان مشتری برابر قابص ودخیل ہے تحریر بیعنامہ سے ایك سال تك مسماۃ زندہ رہی اب انتقال مسماۃ کو عرصہ ڈیڑھ برس کا ہو اجس وقت مسماۃ نے جائداد بیع کی تھی اس وقت وارثان محمد میر خان عاقل وبالغ تھے اور اسی محلہ کے ساکن بلکہ قریب مکان مبیعہ کے سکونت رکھتے تھے اور رکھتے ہیں اور جس وقت داخل خارج بنام امیر حسن خان مسماۃ نے کرایا تو اس کے اشتہار وغیرہ موضع میں آویزاں کئے گئے اوراسی موضع میں وارثان محمد میر خاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع