30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں اوراپنے رقعہ مورخہ ۲۲/ذی الحجہ ۱۳۲۰ھ میں اقرار فرمایا کہ بقایا رس سے تخمینًا(٭٭)کارس اور وصول ہوگیا اور اس تخمینہ کو ان کے مختار عام سید افضال حسین صاحب نے بعد بہت محاسبات کے یوں ظاہر فرمایاکہ(٭٭)کا رس حقیقتًا وصول ہوا ہے تو اس قدر تو بقایا میں نہ رہا اور ا سکا نصف(صما٭٭)ذمہ سید محمد احسن صاحب یافتنی سید محمد افضل صاحب اور واجب الادا ہو کر اس وقت تك مجموع رقم ان کے ذمے(٭٭٭۷/ ۳-۳/ ۸)پائی ہوئی بقایارقم(٭٭٭)کی نسبت اگرچہ محمد احسن صاحب کی یہ خواہش ہو کہ کمی وصولی کا کچھ کم کرکے باقی کی تنصیف کردی جائے خواہ دستاویز میں بانٹ دی جائیں خواہ ایك سے دوسرے کو ان کا معاوضہ دلاکر جملہ بقایا ایك فریق کی کردی جائے کہ اب کھنڈسار میں شرکت رکھنامنظور نہیں اور سید محمد افضل صاحب بھی قطعی شرکت پر راضی نہیں مگر تحصیل بقایا سے اپنے آپ کو معذور محض بتاتے ہیں کہ میں اسامیوں کو جانتا بھی نہیں ہمیشہ کام سید محمداحسن صاحب نے کیا اور اسامیان انہیں کے قبضے میں ہیں مجھے کچھ وصول نہ ہوسکے گا مگر شرعًا دودائن مدیون کو تقسیم نہیں کرسکتے نہ غیر مدیون سے دین وتبادلہ ممکن،لہذا اس بقایا کو خواہ وصولی ہو یا غیر وصولی بدستور اس کے حال پر چھوڑنا لازم اور جس فریق کو جس قدر ان میں سے وصول ہوتا جائے اس کا نصف دوسرے کو ادا کرنا واجب،البتہ اگر کسی مد میں بقایا اس قدر سے کم ثابت ہو جو سید محمدا حسن صاحب نے بتائی ہے تو ظاہر ہوگا کہ اس قدر او ر ان کو وصولی ہوگیاتھا لہذا اس کمی کا نصف بحق سید محمد افضل صاحب ادا کرنا ان کے ذمے لازم ہوگا سید محمد احسن صاحب نے بقایا بابت رس ذمہ اسامیان جگت پور(٭٭۰۲/)لکھائی ہے کہ(٭٭)بعد کو وصول ہوکر(سما٭٭)رہے بعد کو یہ عذر کہ اس میں سہو ہو اان میں(لہ٭٭)بابت خرید جائداد نیلام ہیں باقی اس جگت پور کے ہیں قابل رقم نہیں کہ وہ کاغذحلفی تھاا ور یہ رقم خرید نیلام ایك غیر وصولی رقم ہے جسے سید محمد احسن صاحب غیر وصولی نقصان میں ڈال چکے ہیں اور کوئی اقرار کنندہ آئندہ اپنے اقرار میں اپنی مفید غلطی و سہو بتانے کا مجاز نہیں خصوصًا اس حالت میں کہ یہ غلطی انہوں نے تقریبًا دو مہینے بعد ظاہر کی حلفی کاغذ۱۶/ذی الحجہ کو پیش کیا تھا اور یہ غلطی ۸/صفر کو بتائی ہے مع ہذاخواہ ان کی بہی کے ملاحظہ سے ظاہر ہواکہ یہ رقم اس میں بھی سہو ہوتی رہی بعد کو بڑھائی گئی ہے جو اوپر لکھے ہوئے جوڑ سے بڑھتی ہے اور اس کی تحریر بھی صاف جدا قلم و سیاہی سے نظر آتی ہے ۱۳۰۸ف اور ۱۳۰۹ف کا جمع خرچ بھی سید محمد احسن صاحب کے ملاحظہ سے یہ امر ظاہر ہے لہذا کسی طرح یہ استثناء قابل قبول نہیں اسی قطع شرکت کی غرض سے فریقین نے یہ بھی چاہا کہ کھنڈسار جگت پور کے کڑھاؤ(جس میں سید محمد افضل صاحب نے نو بیان کیاتھا اور سید محمد احسن صاحب نے سات تسلیم کئے)قیمت لگا کر ایك فریق کو دلادئے جائیں سید محمد احسن صاحب نے ان کی مجموعی قیمت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع