30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعلق ہے ان دونوں بیانوں سے صاف روشن ہوا کہ اس قرضہ کو عقد شرکت کے مال یعنی کھنڈسار سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ خانگی ہیں جو قرضہ دونوں صاحبوں پر تھا وہ سید محمد احسن صاحب نے ادا کیا ہے اب اگر اس کی ادا مال مشترك سے ہوئی(جیسا کہ اس بیان اخیر سے پتاچلتا ہے کہ کھنڈسار کسی وقت محتاج قرضہ نہ ہوئی تھی اور یہیں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس(٭٭٭)کا قرضہ کھنڈسار کے ادا میں صرف ہونا غالبًا سہو بیان تھا)جب تو ظاہر ہے کہ سید محمد احسن صاحب کو اس قرضہ کی بابت کوئی دعوٰی نہیں پہنچتا اور اگر فرض ہی کرلیا جائے کہ یہ قرض سید محمد احسن صاحب نے خاص اپنے مال سے خواہ کسی سے قرض لے کر ادا کیا تو یہ ایك قرض ہے کہ ایك بھائی پر آتا تھا دوسرے نے بطور خود ادا کردیا بھائی کے ساتھ حسن سلوك ہوا اور نیك سلوك پر ثواب کی امید ہے مگر معاوضہ ملنے کا استحقاق نہیں کہ کوئی شخص نیك سلوك واحسان کرکے عوض جبرًا نہیں مانگ سکتا ولہذا کتابوں میں تصریح ہے کہ جو شخص دوسرے کا قرضہ بے اس کے امر کے ادا کردے وہ اس سے واپس نہ پائے گا۔عقود الدریہ جلد ۲ص۲۰۷:
|
المتبرع لایرجع بما تبرع بہ علی غیرہ کما لوقضی دین غیرہ بغیرہ امرہ[1]۔ |
غیر پر نیکی کرنے والا نیکی میں دی ہوئی چیز واپس نہ پائیگا جیسے غیر کی طرف سے اس کے امر کے بغیر قرض ادا کردے۔ (ت) |
اسی طرح جامع الفصولین وغیرہ میں ہے،تو ثابت ہوا کہ سید محمد احسن صاحب کو کوئی مطالبہ بابت قرضہ سیدمحمد افضل پر نہیں پہنچتا دستاویز ورقعہ کا مطالبہ ہے تو دامود رداس کا ہے کا اور ان(صما/)کا نصب ہے تو سید فرحت علی صاحب کا ہے اس میں سید محمد افضل صاحب کو عذر بھی ہے کہ سید فرحت علی صاحب کے پانسو باقی ہیں کہ مجموع اڑھائی سو ہوں گے مگر اس کی تحقیقات کی یہاں ضرورت نہیں یہ دعوٰی سید محمد احسن صاحب کا نہیں اس میں مدعی ہوں تو سید فرحت علی صاحب ہونگے جن کو اس مقدمہ سے تعلق نہیں۔
(۱۰)سید محمد احسن صاحب نے بقایا ذمہ آسامیان(٭٭)لکھی ہے جو پہلے براہ سہو(٭٭)لکھی گئی اور بعد کو اس کی تصحیح فرمادی ہے اس رقم میں بقایا بابت مکان عبدالکریم خاں والا اور بقایا رس جگت پور ذمہ آسامیاں اوربقایا توفیر ذمہ آسامیاں دیہ شامل ہے اور اس کی اور تفصیل وہی ہے کہ اس میں اس قدر وصولی یعنی متوقع الوصول اور اس قدر غیر وصولی ہے جس کے وصول کی امید
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع