30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمختار صفحہ۳۳۴:
|
سئل قاری الھدایۃ عمن طلب محاسبۃ شریکہ فاجاب لانلزمہ بالتفصیل ومثلہ المضارب والوصی والمتولی،نھر[1]۔ |
قاری الہدایہ سے سوال ہوا کہ کوئی شخص اپنے شریك سے حساب کا مطالبہ کرے تو جواب دیا کہ ہم تفصیلی حساب لازم نہیں کریں گے۔اسی طرح مضارب،وصی اور متولی کا معاملہ ہے،نہر۔(ت) |
توان سولہ سو کی طرح یہ دو ہزار بھی ناقابل سماعت ہیں،اس جملہ معترضہ کے بعد اصل تنقیح بقیہ قرضہ کی طرف عطف عنان کریں(٭٭٭)کہ قرضے کے دکھائے گئے اور سید محمد احسن صاحب نے اپنے بیان تحریری میں فرمایا کہ وہی قرضہ اب تك چلاآتا ہے اس میں سے(٭صما) قرضہ دستاویز واقعہ دامودرداس تو یقینا اب تك چلاآتا ہے باقی رقوم کی تفصیل جو سید محمد احسن صاحب نے بابت ۱۳۰۶ھ فصلی جبکہ سید محمد افضل صاحب پیلی بھیت گئے تھے اور اب بابت شرع ۱۳۱۰ھ فصلی اپنی بہی سے لکھائی اور وہ شامل مسل ہے،اس کے ملاحظہ سے واضح ہے کہ اس قرضے میں ایك حبہ قرضہ سید فرحت علی صاحب کے کچھ باقی نہیں۱۳۱۰ھ میں سب رقوم جدید ہیں سید فرحت علی صاحب کے ۱۳۰۶ھ میں(٭٭٭)لکھے تھے اور بابت ۱۳۱۰ھ میں(صمالہ)تحریر ہیں سید محمد احسن صاحب نے اپنی اخیر تحریر میں ذکرفرمایا ہے کہ اب یہ(لہ ٭)بھی ادا ہوگئے ان کے فقط(صما)باقی ہیں تو دامودر داس کے(٭٭)اور سید فرحت علی صاحب کے(صما)جملہ(٭٭)نکال کر(٭٭٭۰۹/)سید محمد احسن صاحب نے ادا کئے اور یہ قرضہ مشترك تھا تو سید محمدا حسن صاحب کا حاصل دعوٰی یہ ہوا کہ اس کا نصف یعنی(٭٭٭۰۴/)کہ سید محمداحسن صاحب نے از جانب سید محمدافضل صاحب اداکئے ہیں سید محمدافضل صاحب سے ان کو دلائے جائیں قرضہ اگر بابت کھنڈسار مشترك ہوتا تو یہ امر دیکھنا کہ قرضہ مذکور سید محمداحسن صاحب نے کس مال سے ادا کیااگر آمدنی مشترك کھنڈسار سے ادا ہوا تو کوئی وجہ مطالبہ نہیں کہ مشترك مال سے ادا ہو ا اور اب سید محمد احسن صاحب کا وہ بیان مورخہ ۱۲/مئی وارد ہوتا کہ(٭٭٭۰۱۳/)نقد آمدنی کھنڈ سار اور ہوئے تھے جو قرضہ مشترکہ کے ادا میں گئے مگر سید محمداحسن صاحب اپنے بیان تحریری میں صاف لکھ چکے ہیں کہ یہ قرضہ سابق میں جبکہ خرچ ان کے یعنی سید محمد افضل صاحب کے تعلق تھا ہوا تھا بابت خرچ خانگی کے جوان کے بہی سے ثابت ہے اور اخیر تحریر مورخہ ۸/جون۱۹۰۳ء میں لکھا قرضہ (٭٭٭)میں(٭٭)قرضہ دامودرد اس کے ہیں اور(٭٭۰۹/)جو دیگر صاحبان کا متفر ق چاہئے یہ بات خرچ خانگی ہے کھنڈسار جگت پور میں کبھی نقصان نہ ہوا نہ اس کو اس سے کچھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع