دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

بیان کیا،باقی گواہوں کے بیان میں اصلًا کچھ تذکرہ نہیں،سید محمد احسن صاحب نے یہ شہادتیں اس غرض سے پیش کیں کہ تمام آمدنی کی تحویل سید محمد افضل صاحب کے پاس ہونا ثابت کریں یہ شہادتیں اس امر کے اثبات میں بھی ناتمام ہیں سید مہدی حسن صاحب و سید ممتاز علی صاحب ومرزاہدایت بیگ صرف شیرے کی آمدنی سید محمد افضل صاحب کے پاس آنا بیان کرتے ہیں،سید محمد احسن صاحب صاف کہتے ہیں کہ یہ میرے علم میں کچھ نہیں کہ تحویل ان دونوں بھائیوں میں کس کے پاس ہوتی تھی سید محمد افضل صاحب کے بھی دیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہ اوپر سے دادنی و یافتنی کی رقمیں جدا جدا لکھتے آئے ہیں اور یا فتنی کی مجموع رقوم کو تتمہ قرار دیتے ہیں اگرچہ بعد مجرائی دادنی و تتمہ جو تحویل میں باقی نہیں قرار پاسکتا بارہ سو سے قدرے زائد ایك رقم اختر حسین خاں کے دادنی اور بارہ سو ان سے یافتنی دونوں مدوں میں تھی یہ یافتنی ملا کر رقم تتمہ(٭٭)لکھی گئی تھی اس کے بعد کے حساب میں وہ رقم دادنی ویافتنی دونوں میں سے چھوڑدی ہے او ریوں(٭٭)دادنی اور (٭٭۰۹/)یافتنی لکھے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ حساب برابر ہے تتمہ کچھ نہیں ایسی رقم وتحویل میں باقی ٹھہرانا سخت عجیبہ ہے ولہذا آج تك سید محمد احسن صاحب نے اس کا کوئی ذکر نہ فرمایا نہ وہ ان کے خیال میں تھا بلکہ بیان تحریر میں صراحۃً اس کے خلاف تحریر تھا کہ سید محمدافضل صاحب کو شاید بیس پچیس روپے گئے ہوں گے اگر یہ پندرہ سولہ سو کی رقم بھی پیلی بھیت جانے کے وقت ان کے پاس ہی ہوتی تو اتنی بڑی رقم کثیر چھوڑ کر صرف بیس پچیس روپے کے ذکر پر کیوں قناعت فرمائی جاتی اور وہ بھی لفظ شاید کے ساتھ،پھر اس درخواست کے دو روز بعد یعنی ۸/ مئی کو جو تفصیل قرضہ سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ نے پیش کی اس میں تو اس نزاع کو یك سرطے فرمادیا اور یہی ان کی نیك نیتی سے متوقع تھا اس کے آخر میں صراحۃًتحریر فرمایا کہ اس کے سوا کوئی مطالبہ سید محمد احسن صاحب وغیرہ کا ذمہ سید محمد افضل صاحب نہیں ہے سوائے(٭٭٭)کے کہ معرفت شیخ تصدق حسین صاحب وسید فرحت علی صاحب کے سید محمد افضل صاحب کو پہنچے ہیں،الحمدﷲ کہ حق واضح فرمادیا،اس دعوٰی کے جواب میں ۱۱مئی کو سید محمد افضل صاحب نے بھی ایك جدید دعوٰی(٭٭٭)کا پیش کیا محاسبات میں سید افضال حسین صاحب مختار عام نے یہ رقم نقد آمدنی کھنڈ سار کی بتائی تھی کہ آسامیوں سے علاوہ اسکے آئی تھی مگر شرائط پیش کردہ میں اس کا کچھ ذکر نہ تھا،سید افضال حسین صاحب نے بعد استفسار بیان کیا کہ یہ رقم ادھر سے آئی ادھر گئی یعنی یا فتنی میں آئی دادنی میں گئی لہذا قائم نہ کی گئی اس پر سید محمد افضل صاحب نے استفسار کیا کہ کس دادنی میں گئی انہوں نے خالص اپنے قرضے میں دی یا مشترك میں اس کا جواب ۱۲ / مئی کو سید محمداحسن صاحب نے لکھا کہ یہ رقم تحویل میں نہیں رہی بلکہ قرضے میں الٹ پھیر میں گئی صرف میرے ذمے پر تنہا قرضہ کوئی نہ تھابلکہ مشترك قرضہ متعلق کھنڈسار کے تھا اس میں گئی،شرعًا شریك کا حلفی بیان ایسے امور میں مقبول ہے اگرچہ اصلًا تفصیل نہ بتائے۔


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن