30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے رد ہوگیا،اشباہ ص۲۵۵ :
|
المقرلہ اذا ردالاقرار ثم عادالی التصدیق فلاشیئ لہ[1]۔ |
مقرلہ نے جب اقرارکو رد کردیا اور بعد میں اقرار کی تصدیق کردی تو بھی محروم رہے گا(ت) |
ایضًا صفحہ۲۵۳:
|
المقرلہ اذاکذب المقر بطل اقرارہ [2]الخ۔ |
مقرلہ نے جب اقرار کرنے والے کو جھوٹا قرار دیا تو اقرار باطل ہوجائے گا الخ(ت) |
تو یہ ثلث کہ ملك سید امیر حسن مرحوم تھا خاص ملك سید محمد افضل صاحب ہو ااور نصف اس ثلث اسمی سید افضال حسین صاحب کا ان کی ملك قرار پایا تھا مجموع ڈیڑھ ثلث یعنی اس رابع مبیع کا نصف مملوکہ سید محمد افضل صاحب ہوا مکان نمبر۴ کی اگرچہ سید محمد احسن صاحب مدعاعلیہ کا اپنے اظہار میں بیان کہ وہ میرا خرید کیا ہوا ہے صریح سہو ہے وہ مکان بیع نہیں رہن ہے مگر سید محمد احسن صاحب مذکور نے اپنے اظہار میں نیك نیتی سے تسلیم فرمالیا کہ اس مکان میں نصف ان کا حصہ ہےجو انہوں نے خواجہ محمد حسن صاحب کے قبضہ میں مع نصف مکان نمبر ۵ مستغرق کیا ہے انھوں نے اپنی تحریر عــــــہ۱ میں صراحتًا اقرار کرلیا کہ یہ رہن کھنڈ سار مشترك کی آمدنی سے لیا گیا اور تحریر کردیا کہ جب سید محمد افضل صاحب شریك کھنڈسار ہیں تو نصف ان کاا ور نصف میرا ہے فقط،لاجرم یہ نصف بحق سید محمد افضل صاحب ہے،یہی حالت ہے اس کی نسبت اگرچہ بیان واظہار سید محمد احسن صاحب بہت مختلف واقع ہوئے مگر ہر شخص کا بیان اس قدر کہ اس کی ذات کےلئے نافع ہو بلاد لیل قابل قبول نہیں ہوسکتا اور جس قدر فریق دیگر کے لیے نافع ہے اس کے حق میں حجت ہوجاتا ہے سید محمد احسن صاحب نے اپنے اظہار میں صاف فرمایا ہے کہ نصف مکان نمبر۴ کے ساتھ مکان نمبر۵ پھاٹك والا احمد حسین والا کہ اس کا بھی نصف میرا ہے اسی قرضہ خواجہ عــــــہ۲ صاحب میں مستغرق ہے نیز سید محمد احسن صاحب کے مختار عام سید افضال حسین صاحب نے اپنے اظہار عــــــہ۳ اور اپنے بیان عــــــہ۴ دونوں میں صاف فرمایا ہے کہ مکان نمبر ۴ کے سوا کہ
عــــــہ۱:خط کشیدہ عبارت اندازہ سے بنائی گئی ہے۔ عــــــہ۳:تحریر نمبر۱۹ شامل مسل ۱۲۔
عــــــہ۳:تحریر نمبر۳ شامل مسل ۱۲۔ عــــــہ۴:تحریر نمبر۱۴ شامل مسل ۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع