30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ فریق مقدمہ ہیں نہ ان کے ابطال حق پر فریقین سے کسی نے کوئی ثبوت دیا لہذا اس قدر میں کسی کا دعوٰی مسموع نہیں سید امیر حسن مرحوم کے وارث صرف ان کے والد سید محمد افضل صاحب مدعی ہیں تو اس ربع کا ایك ثلث کہ شرعًا ملك سید امیر حسن مرحوم تھا وراثۃً ملك سید محمد افضل صاحب ہواسید محمد افضل صاحب کو بھی اگرچہ اقرار تھا کہ یہ مکان متروکہ پدری ہے جس کے رو سے اگرچہ اقرارات ہر سہ فریق حق سید امیر حسن مرحوم پر مؤثر نہ ہوا مگر جب ثلث بدعوٰی ارث سید محمد افضل صاحب کو پہنچے سید محمد احسن صاحب ان کے اقرار پر مواخذہ کرکے اس ثلث میں نصف کے مدعی ہوسکتے تھے لیکن سید محمد احسن صاحب بعد اقرار مذکور ہر سہ فریق کے صراحۃً تحریر کرچکے کہ امیر حسن کے حق کی بابت گزارش ہے کہ روپیہ والد صاحب کا تھا اور اس سے بیع ورہن کیا گیا اگر شرعًا اس میں میرا حق ہے تو مجھ کو دعوٰی ہے اور نہیں ہے تودعوٰی نہیں ہے فقط اور اوپر معلوم ہوتا ہے کہ شرعًا سید امیر حسن مرحوم کے حق میں سید محمد احسن کا کوئی حق نہیں،نہ خریداری میں روپیہ والد کا ہونا،ملك والد کو مستلزم۔فتاوٰی خیریہ ص۲۰۱:
|
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب[1]۔ |
والد کے مال سے خرید کر دہ چیز ضروری نہیں کہ والد کے لئے ہو۔(ت) |
او رلادعوٰی کسی شرط واقعی پر معلق کرنا بلا شرط لادعوٰی ہے،درمختار ص۴۰۷ :
|
علقہ بامرکائن کان اعطیتہ شریکی عــــــہ فقدابرأتك وقد اعطاہ صح[2]۔ |
برأت کو معلق کیا کسی امر ماضی محقق پر جیسے طالب کا مدیون سے کہنا کہ اگرتونے فلاں چیز میرے شریك کو دی تو میں نے تجھ کو بری الذمہ کیا حالانکہ مدیون وہ چیز اس کے شریك کو دے چکا تو یہ تعلیق صحیح ہوگی۔(ت) |
ردالمحتار جلد ۲ ص۳۴۹:
|
لانہ علقہ بشرط کائن فتنجز۔[3] |
کیونکہ اس نے پائی جانیوالی شرط پر معلق کیا ہے تو فورًا نافذ ہوگیا۔(ت) |
تو سید محمد افضل صاحب کا اقرار حصہ سید امیر حسن مرحوم کے بارے میں سید محمد احسن صاحب کے لادعوے
عــــــہ: شریکی کی جگہ اصل میں بیاض ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع