30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سید محمد احسن متروکہ سید امیر علی صاحب تین ربع مرہونہ سید امیر علی صاحب قرار پائیں گے یہ رہن اگرچہ بوجہ مشاع ہونے کے فاسد اور بوجہ دخلی ہونے کے شرعًا حرام ہے مگر تاوصول دین اس پر قبضہ رکھنے کا اختیار ضرور حاصل،اس بارے میں رہن صحیح وفاسد کا حکم ایك ہی ہے۔عہ درمختار صفحہ۶۱۶:
|
لایصح رہن مشاع مطلقًا ثم الصحیح انہ فاسد[1]۔ |
غیر منقسم چیز کا رہن مطلقًا صحیح نہیں ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ وہ رہن فاسد ہوگا۔(ت) |
اسی میں ہے: ص۶۲۸:
|
کل حکم عرف فی الرہن الصحیح فھو الحکم فی الرھن الفاسد کرھن المشاع[2](ملخصًا) |
جو حکم صحیح رہن کا ہے وہ حکم فاسد رہن،مثلًا غیر منقسم رہن چیز،کا ہے۔(ت) |
اور بعد انتقال مرتہن اس کے ورثہ اس کی جگہ مرتہن ہوجاتے ہیں، درمختار ص۶۲۳:
|
لایبطل الرہن بموت الراھن ولا بموت المرتھن ولا بموتھما ویبقی الرھن رھنا عند الورثۃ[3]۔ |
راہن یا مرتہن یا دونوں کی موت سے رہن باطل نہیں ہوتا بلکہ ان کے ورثاء میں رہن باقی رہے گا۔(ت) |
تو اس مکان کے تین ربع کی مرتہنی بنام فریقین اگرچہ حسب اقرار فریقین بطور اسم فرضی تھی مگر بعد انتقال مرتہن اصلی واقعی وحقیقی ہوگئی اور اس میں کسی فریق کو نزاع بھی نہیں ایك ربع باقی کے بیعنامہ میں تین نام مندرج ہوئے سیدامیر حسن مرحوم وسید افضال حسین پسران مدعی واحمدی بیگم زوجہ سید محمد احسن صاحب مدعاعلیہ ان میں سید افضال حسین صاحب تو اپنے اقرار مذکور تنقیح سوم کے رو سے جدا ہوگئے لیکن ہر سہ فریق کا اتفاق سید امیر حسن واحمدی بیگم پر اثر نہیں ڈال سکتا کہ اقرار حجت قاصرہ ہے اثر صرف مقر کی اپنی ذات تك محدود رہتا ہے ہم صدرتنقیح سوم میں بیان کر آئے کہ دستاویزات مصدقہ مسلمہ ہر سہ فریق میں ان کاموں کا اندراج دفع دعوٰی دیگران کےلئے بس ہے جب تك وہ بینہ سے ان اسماء کا فرضی ہونا ثابت کریں جس کا ثبوت اصلًا فریقین سے کسی نے نہ دیا تو اس ربع میں اقرارات کا اثر صرف ایك ثلث موسوم سید افضال حسین پر پڑے گا،اور وہ باقرار ہر سہ فریق متروکہ سید امیر علی صاحب قرار پاکر سید محمد افضل صاحب سید محمد احسن صاحب میں نصف نصف ہوا سید امیر حسن مرحوم و احمدی بیگم
عــــــہ: تحریر نمبر ۱ و نمبر۱۴شامل مسل ۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع