30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاب اشترٰی لھا فی صغرھا او بعد ما کبرت وسلم الیہا وذٰلك فی صحتہ ولا سبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃاھ [1]منح۔ |
باپ نے اپنی صحت وتندرستی میں بیٹی کےلئے کوئی چیز خرید کر اس کے قبضہ میں دے دی وہ چیز خاص بیٹی کےلئے ہوگی خوہ بالغہ ہو یا نابالغہ ہو دیگر ورثاء کا اس چیز پر کوئی حق نہ ہوگا۔اھ منح(ت) |
عقود الدریہ جلد ۲ص۲۸۱:
|
امرأۃ اشترت لو لدھا الصغیر بما لھا علی ان لا ترجع بالثمن علی الولد جاز استحساناوتکون مشتریۃ لنفسہا ثم تصیر ھبۃ منھا للصغیر[2]۔ |
کسی عورت نے اپنے نابالغ بیٹے کےلئے اپنے مال سے کوئی چیز خریدی اس عہد پر کہ بیٹے سے رقم نہ لوں گی تو استحسانًا جائز ہے اور وہ خریداری عورت کی اپنے لئے ہوگی پھر عورت کی طرف سے بیٹے کو ہبہ قرار پائے گی۔(ت) |
اور جب حسب اقرار سید افضال حسین صاحب بیع مکان نمبر۵میں ان کانام بذریعہ ہے اور ہبہ مشاع بعد انتقال واہب باطل ہوجاتا ہے توثابت ہوا کہ ہر سہ مکانات مذکور نمبر ۳ و ۴ و ۵ میں سید افضال حسین صاحب کا کوئی حق ملك ورہن اصلًانہیں۔
(۴)مکان نمبر ۳ کی نسبت بالاتفاق اظہارات عــــــہ ہرسہ فریق ثابت ہوا کہ اس کی بیع و رہن نامہ سب حقیقۃً بنام سید امیر علی صاحب مرحوم تھی اندراج نام دیگراں اسی قاعدہ معہودہ بزرگان کی بناء پر تھا بالخصوص مدعا علیہ کا بیان کہ یہ تمام و کمال مکان سید امیر علی صاحب مرحوم نے فریقین کے خالہ زاد ہمشیر قادری بیگم کو ہبہ کردیا صراحۃًاس کے متروکہ امیر علی صاحب ہونے کا اقرار ہے۔سید امیرعلی نے انتقال فرمایا اور ان کے وارث یہی دو صاحبزادے سیدمحمد افضل صاحب وسید محمد احسن صاحب ہوئے تو مکان کے متروکہ مورث ہونے کا اقرار نصف مکان بذریعہ وراثت ملك سید محمد افضل صاحب ہونے کا اقرار ہوا لیکن یہ اقرار حق راہن پر کہ نہ حاضر ہے نہ فریق مقدمہ ہے مؤثر نہ ہوگا تو ایك ربع مکان مذکور باقرار
عــــــہ: تحریر نمبر ۱ و نمبر۱۴شامل مسل ۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع