30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صاحب مذکور نے بیان کیا کہ یہ مکان جس میں اس وقت موجودہوں میرے نانا میر سید محمد صاحب کا تھا ان کے صرف تین وارث ہوئے: میری والدہ ولایتی بیگم اور خالہ لالہ بیگم اور ماموں سید نثار الدین حسین،ان ماموں صاحب نے اپنا حصہ یعنی نصف مکان مذکور اپنی دونوں بہنوں میری والدہ وخالہ کو ہبہ بلا تقسیم کردیا ان ماموں صاحب کے بیٹوں سید غازی الدین حسین وسید احمد حسین نے اب تك کوئی تعرض نہ کیا میری تینوں بہنوں سردار بیگم والدہ سید محمد افضل وسید محمد احسن اور برکاتی بیگم و آبادی بیگم نے اپنی والدہ ولایتی بیگم سے پہلے وفات پائی،ولایتی بیگم مذکور کا میں تنہا وارث ہوں،بعد انتقال والدہ میں اور میر ی خالہ لالہ بیگم نصف نصف اس تمام مکان کے مالك ہوئے ہم دونوں مالکان مکان مذکور نے یہ مکان تمام وکمال ان سید محمد احسن کو ہبہ کردیا تعمیر کی نسبت کہا میں اس وقت یہاں نہ تھا میری والدہ زندہ تھیں یہ میرے علم میں نہیں کہ میری والدہ کے روپے سے بنا،یا سید امیر علی کے روپے سے تعمیر ہوا،ظاہر ہے کہ ان گواہ کے بیان میں کوئی لفظ مفید مدعی نہیں البتہ دستاویز مذکورہ کے تینوں فریق مقدمہ کے مصدقہ ومسلمہ ہیں اس میں سے دستاویز نمبر ۲میں مکان نمبر۲ کی حد غربی میں کہ یہی مکان نمبر ایك ہے سردار بیگم زوجہ سید امیر علی کا نام لکھا ہے اور دستاویز نمبر۶میں مکان نمبر۴ کی حد شرقی میں کہ یہی مکان نمبر۱ ہے مکان محمد احسن مرتہن ومحمد افضل بیگ پر ایك قرینہ ہے جس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ۱۸۶۷ء تك یہ مکان نمبر۱ سردار بیگم والدہ فریقین کی طرف منسوب تھا اور ۱۸۹۴ء میں فریقین کی طرف مضاف ہوا مگر قطع نظر اس سے کہ مجرد نسبت واضافت خواہی نخواہی دلیل ملك نہیں اور وہ بھی ایسی کہ مدعی کے ثبوت استحقاق میں بکار آمد ہو خود سید افضل صاحب مدعی نے اپنی نیك نیتی سے صاف اقرار کیا کہ ولایتی بیگم کا سردار بیگم یا سید نثار الدین حسین صاحب کا فریقین کو اپنے اپنے حصص واقعہ مکان مذکور ہبہ کرنا بلا تقسیم تھاا ور اب تك کہ سردار بیگم و سید نثار الدین حسین کی وفات ہوچکی مکان بدستور نامقسم ہے غالبًا بیان مدعی نسبت ہبہ نامجات مذکورہ صحیح ہے اور انہیں کی بناء پر ۶۷ء تك مکان ملك سردار بیگم اور ۱۸۹۴ء میں مکان ملك فریقین تصور کیا جاتا ہو لیکن قابل قسمت شے میں ہبہ شرعًا ناجائز ہے اور جبکہ تقسیم سے پہلے موہوب لہ یا وارث انتقال کر جائے جیسا کہ بیان ہو اوہ ہبہ محض باطل وکالعدم ہوجاتا ہے عالمگیری جلد ۴ص۱۳۱:
|
لاتصح فی مشاع یقسم[1]۔ |
تقسیم سے قبل مشاع چیز کا ہبہ صحیح نہیں۔(ت) |
درمختار صٖحہ ۵۱۲:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع