دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

مکانات محدودہ بالا میں بذریعہ وراثت پدری ومادری وبیع ورہن میرا اور ان سید محمد احسن کا بالمناصفہ چاہئے دستاویزوں میں سید افضال حسین وسید امیر حسن مرحوم پسران مدعی واختری بیگم زوجہ محمداحسن مذکور کا نام فرضی ہے سوامکان نمبر ۱کے کہ اس میں اراضی کا کچھ حصہ خرید کردہ والدہے اور زیادہ حصہ میری نانی صاحبہ ولایتی بیگم کے والد میرسید محمد صاحب کاخرید کردہ ہے ان کے تین وارث ہوئے: سید نثار الدین حسین پسر اور ولایتی بیگم ولالہ بیگم دختران،اس میں سے نانی صاحبہ ولایتی بیگم نے اپنے حصہ کا ہبہ نامہ میری والدہ سردار بیگم کے نام لکھ دیا اور سید نثار الدین حسن صاحب نے اپنے حصہ کا ہبہ نامہ میرے اور سید محمد احسن کے نام لکھا لالہ بیگم دختران کا جس قدر حصہ اراضی میں تھا اس کا ہبہ نامہ سید محمد احسن کے نام لکھا گیا اور تعمیر اس کی کل والد صاحب مرحوم نے اپنے روپیہ سے کی ہے مکانات مذکورہ تقسیم یکجائی کردی جائیں کہ نزاع نہ رہے کمی بیشی بجائے قسمت روپیہ سے پوری کردی جائے مکان نمبر۵کرایہ پر رہا جس قدر زر کرایہ حاصل ہوا اس کا حساب ان سید محمداحسن سے لے کر میرا نصف ان سید محمد احسن سے مجھے دلایا جائے،سید محمد احسن صاحب مدعا علیہ مذکور نے بیان کیا کہ کہنڈ سار جگت پور تنہا میں نے کی ان سید محمد افضل کی اس میں کوئی شرکت نہیں مکان نمبر ۱ کا ہبہ نامہ میرے نام ہے اس کا تنہا مالك میں ہوں،مکان نمبر۲میں ان سید محمد افضل صاحب کی شرکت تسلیم ہے نیز یہ مکان نمبر۳میں بقدر اپنے حصہ کے شریك ہیں مکان نمبر۴ وہ میری خرید کئے اور بنائے ہوئے ہیں مگر نام افضال حسین وامیر حسن کا بھی درج ہے تقسیم مکانات یکجائی بروئے معاوضہ کمی بیشی جس طرح مجوز کی رائے میں مناسب ہو مجھے منظور ہے اثاث البیت متروکہ پدری جو میرے پاس ہے اس کا نصف ان سید محمد افضل صاحب کودے دیا جائے اور جو کچھ ان سید محمد افضل صاحب کے پاس ہے اس کا نصف مجھے دلایا جائے،سید افضال حسین مدعاعلیہ مذکور نے بیان کیا کہ مکان نمبر۴کے سوا کل مکانات متنازعہ میرے دادا سید اکبر علی صاحب مرحوم نے اپنے روپیہ سے خریدے ہیں اور رہن لئے ہیں اور جس جس کو جتنا دینا منظور تھا اس کانام بیعنامہ و رہن نامہ میں درج کرادیا،مکان نمبر۴میرے حصہ کے قدر میرا مرہونہ ہے کہ بعد انتقال سید امیر علی صاحب رہن لیا،مکان نمبدر ۳ کی نسبت دونوں مدعا علیہما نے بیان کیا کہ یہ مکان سید امیر علی صاحب نے ہماری خالہ زاد بہن،پھوپھی قادری بیگم بنت سید نجم الدین احمد زوجہ سید وارث علی کو ہبہ کردیا تھا اس میں جگت پور کی کہنڈ سار ہوتی تھی اور اب بھی مکان خالی کرکے قبضہ نہ دلایامگر چالیس روپیہ مجھ سید محمد احسن نے قادری بیگم مذکورہ کو دئے سید محمد احسن صاحب مذکور نے توفیر ومنافع کہنڈ سار وکرایہ مکان وبقایان مذکور ان کا حساب مطلوب من ابتدائے یکم نومبر ۱۸۹۸ء لغایت ۳۰/نومبر۱۹۰۲ء جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اور قرضہ دامود رد اس ہم فریقین پر تمام وکمال بالمناصفہ تھا اور ہے اگرچہ پانچسو روپیہ کا رقعہ بنام دامودرداس تنہا میرے نام سے تحریر ہوا سید محمد احسن اب اس سے انکار کرکے مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں،انصافًا بعد تحقیقات اس کا نصف بھی


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن