30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یمنع منہ وقیل لا،وفی کل من القولین اختلاف التصحیح والفتوی قال فی الخیریۃ والمتون علی المنع فلیکن المعول علیہ [1]اھ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ فقدنقل فی جامع الفصولین ان لہ ذلك مطلقًا وعلیہ الفتوی ونقل فی الخیریۃ عن التتارخانیۃ عن العتابیۃ انہ لیس لہ ذٰلك وعلیہ الفتوی وھو الذی صححہ فی الخانیۃ قال فی الخیریۃ ومثلہ فی کثیر من کتب المذہب قال وھو ظاہر الروایۃ کما صرح بہ فی جامع الفصولین فلیکن المعول علیہ اھ قلت کیف لاوقد نصواان الفتوی متی اختلف رجح ظاہر الروایۃ کما فی البحرالرائق وغیرہا وصرحواان قاضی خان فقیہ النفس لایعدل عن تصحیحہ کما فی غمز العیون وغیرہ واطبقواان التقدیم للمتون لانہا الموضوعۃ لنقل المذھب کما فی الدر وغیرہ فقد ترجح بوجوہ[2]،واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
تو اس کو منع کیا جائے اور بعض نے کہا منع نہ کیا جائے اور دونوں اقوال میں فتوٰی اور تصحیح کا اختلاف ہے،خیریہ میں کہا کہ متون منع پروارد ہیں اور اس پر ہی اعتماد چاہئے اھ مجھے اس پر اپنا حاشیہ یاد ہے کہ جس کی عبارت یہ ہے کہ جامع الفصولین میں منقول ہے کہ اس کو مطلقًا یہ اختیار ہے اور اسی پر فتوٰی ہے،اور خیریہ میں تاتارخانیہ سے اور وہاں عتابیہ سے منقول ہے کہ اس کو اختیارنہیں ہے اور اس پر فتوٰی ہے اور اسی خانیہ میں ترجیح ہے خیریہ میں فرمایا کہ اکثر کتب میں اسی طرح ہے اور کہا یہ ظاہرالروایۃ ہے جیسا کہ جامع الفصولین میں ہے تو اس پر اعتماد چاہئے،میں کہتا ہوں یہ کیونکر نہ ہو کہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ جب فتوٰی میں اختلاف ہوتو ظاہرالروایہ کو ترجیح ہوتی ہے جیساکہ بحرالرائق وغیرہ میں ہے،اور یہ بھی انہوں نے تصریح فرمائی ہے کہ چونکہ قاضی خان فقیہ النفس ہیں لہذا اس کی تصحیح سے عدول نہ کیا جائےگا جیساکہ غمز العیون وغیرہ میں ہے،اور سب کا اتفاق ہے کہ متون کو اولیت ہے کیونکہ وہ مذہب کو بیان کرنے کے لئے وضع کئے گئے ہیں جیسا کہ در وغیرہ میں ہے تو یہ کئی وجوہ سے ترجیح یافتہ ہے، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) |
_____________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع