30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کذٰلك اذا سأل جیرانہ واھل محلتہ وھم غیر ثقات فاتفقوا علی تعدیلہ او جرحہ ووقع فی قلبہ انہم صدقوا کان ذٰلك بمنزلۃ تواترالاخبار[1]۔ |
او ریوں ہی جب گواہوں کے پڑوس اور اہل محلہ سے پوچھا حالانکہ یہ تمام لوگ خود غیر ثقہ ہیں،او روہ تمام گواہوں کو عادل بتاتے ہیں یا مجروح بتاتے ہیں تو قاضی اگر ان کو سچا سمجھتا ہے تو ان کے قول پر عمل کرلے یہ بھی متواتر خبروں کی طرح ہے(ت) |
عمرو نے جوصفات مزکی میں بیان کیں قاضی کو مناسب ہے کہ ایسے ہی شخص کو مزکی مقرر کرے طامع ومفلس نہ ہونا اور لوگوں سے اختلاط شرائط اولویت ہیں جبکہ ان سے ارجح وصف مثل علم فقہ ان کے معارض نہ ہو مثلًا اور اس میں زیادہ حاجت ہے،گوشہ گزیں اپنے معتمدین سے پوچھ کر تزکیہ کرسکتا ہے اور جاہل کے اسباب جرح و تعدیل میں امتیاز دشوار۔محیط وہندیہ میں ہے:
|
ینبغی للقاضی ان یختار للمسألۃ عن الشھود من کان عدلا صاحب خبرۃ بالناس و ان لایکون طماعا و ینبغی ان یکون فقہیا یعرف اسباب الجرح و التعدیل وان یکون غنیا وان وجدعالما فقیرا وغنیا ثقۃ غیر عالم او عالما ثقۃ لایخالط الناس وثقۃ غیر عالم یخالط الناس اختار العالم[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
قاضی کو مناسب ہے کہ گواہوں کی تعدیل کیلئے ایسے لوگوں کو مقرر کرے جو خود عادل او رخبردار ہوں اور وہ لالچی نہ ہوں،بہتر ہے کہ وہ فقہ والے ہوں تاکہ جرح وتعدیل کے اسباب کو پہچانتے ہوں اگروہ غنی ہوں تو بہتر ہے اگر عالم فقیر ہو اور غنی ثقہ ہو اور عالم نہ ہو یا عالم ثقہ ہو لیکن لوگوں سے میل جول نہیں اور غیر عالم ثقہ ہے اور لوگوں سے میل جول رکھتا ہے توا ن حالات میں عالم کو ترجیح دے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
(۲)حق یہ کہ یہ امررائے قاضی پر مفوض ہے اگر گواہوں پر کوئی بدگمانی ہوتو قاضی پر واجب ہے کہ انہیں جداجدادائے شہادت کا حکم دے مگر دوعورتوں کہ ان کی شہادت مل کر شرعًا بجائے شہادت واحدہ ہے ان میں تفریق نہیں لقولہ تعالٰی
"اَنۡ تَضِلَّ اِحْدٰىہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰىہُمَا الۡاُخْرٰیؕ"[3] (اﷲ تعالٰی کے ارشاد کے مطابق کہ عورتوں میں سے ایك غلطی کرے تو دوسری یاد دلائے۔ت)اوراگر قاضی کو اطمینان کافی ہوکہ یہ لوگ اہل صدق و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع