30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار مسئلہ تعدیل الخصم للشہود بیان مذہب امام میں ہے:
|
تزکیۃ الکاذب الفاسق لاتصح[1]۔ |
جھوٹے او رفاسق کو گواہوں کا تزکیہ درست نہیں۔(ت) |
نیز مذہب صاحبین میں ہے:
|
تصح ان کان من اھلہ(ای اھل التعدیل)بان کان عدلا[2]۔ |
تزکیہ کرنے والا اہل ہو توصحیح ہے یعنی تزکیہ گواہوں کو عادل ثابت کرنا تب صحیح ہوگا جب وہ خود عادل ہو۔(ت) |
ظاہر ہوا کہ مزکی میں عدالت باتفاق ائمہ ثلثہ رضی اﷲتعالٰی عنہم شرط ہے،تہذیب پھر بحرالرائق پھر درمختار میں ہے:
|
المجھول لایعرف المجہول[3]۔ |
مجہول الحال کسی مجہول کو معلوم نہیں کرسکتا۔(ت) |
خانیہ وہندیہ میں ہے:
|
ان کان فاسقا او مستورا لایصح تعدیلہ[4]۔ |
مزکی اگر فاسق یا مستور الحال ہو تو اسے عادل قرار دینا صحیح نہیں۔(ت) |
اگر شاہد کے ہمسایگان مسکن وبازار واہل محلہ میں کوئی ثقہ نہ ملے نہ اس کے بارے میں کوئی تواتر صحیح شرعی ہوتو قاضی اہل محلہ کے بیان پر دو شرط سے اعتماد کرسکتا ہے،ایك یہ کہ وہ سب بالاتفاق یکزبان ایك ہی بات کہتے ہوں سب اسے عادل کہیں یا سب مجروح ہی بتاتے ہوں،دوسرے یہ کہ قاضی کے قلب میں آئے کہ یہ سچ کہہ رہے ہیں تو اس وقت ان کا اتفاق مع اس تحری کے قائم مقام تواتر ہوجائے گا اور تواتر میں عدالت کی حاجت نہیں،نہ یہ کہ جس نمازی صورت محلے والے مجہول الحال سے چاہیں پوچھ لے اور یہی کافی ہو یہ محض افتراء زید ہے۔محیط وعالمگیریہ میں ہے:
|
ان لم یجد فی جیرانہ واھل سوقہ من یصلح للتعدیل بل یسأل اھل محلتہ،وان وجد کلھم غیر ثقات یعتمد فی ذٰلك علی تواتر الاخبار،و |
اگر پڑوس اور بازاروں میں کسی کو تعدیل کا اہل نہ پائے تو پھر قاضی اہل محلہ کے متعلق سوال واستفسار کرے اگر ان میں سے کسی کو بھی اہل نہ پائے تو پھر گواہوں کے متعلق متواتر خبروں پر اعتماد کرے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع