30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرق کرسکتا ہو نایجی اور مفلس نہ ہو۔قاضی علی الخصوص ایسے ہی شخص کو جو بصفات مذکورہ متصف ہو مزکی مقرر کرسکتا ہے، پس اس امر میں دو قسم کی واقفیت ضرور ہے ایك بذاتہ علم قاضی بصفات منتسبہ الی المزکی۔دوسرے اطلاع مزکی نسبت احوال شہودمطلوبۃ التزکیۃ بعد تشریح اقوال زید وعمرو مفتیان شرع شریف سے یہ امر دریافت طلب ہے کہ ازروئے شرع زید کا قول صحیح اور قابل عمل ہے یا عمرو کا جواب صاف بحوالہ روایات مستندہ کتب فقہیہ عنایت ہو۔
سوال دوم:زید کا قول ہے کہ اگر کسی ضرورت سے قاضی برسر موقع تحقیقات کرے تو جو گواہ موقع پر جمع ہوں وہ علیحدہ بٹھلائے جائیں اور ان میں سے ایك ایك شخص کو قاضی اپنے رو برو طلب کرکے ضرور سوالات کرے۔،اورفریقین یا وکلاء فریقین کو بھی موقع سوالات وجرح کا دیا جاوے،سب اہل محلہ کو ایك جلسہ میں ان سے قاضی کے دریافت حال کرنے میں یہ نقص ہے کہ سب لوگ حال مستفسرہ کو یك زبان ہو کر کہیں گے اور اس صورت میں اصلی واقعہ کا انکشاف قابل اطمینان نہ ہوگا بکر کہتاہے کہ جیسازید کہتاہے ایسا نہیں ہوناچاہئے بلکہ قاضی ایك ہی جلسہ میں کل گواہان سے دریافت حال کرکے قلم بند کرکے قاضی کا ایسا کرنا خلاف شرع نہیں ہے۔یہ تحقیقات قاضی کے اطمینان کے واسطے ہے،مفتیان شرع شریف سے یہ التما س ہے کہ ازروئے شرع مبارك زید کا قول قابل عمل ہے یا بکر کا؟بحوالہ کتب وعبارت جواب عنایت ہو۔
الجواب:
(۱)زید کا قول باطل ہے،مزکی کا عادل ہونا ضروری ہے،مجہول الحال خود محتاج تزکیہ ہے وہ دوسرے کا تزکیہ کیاکرسکتا ہے۔
معین الحکام میں ہے:
|
ینبغی للقاضی ان یختار للمسألۃ عن الشھود من ھو اوثق الناس واورعھم دیانۃ واعظمھم درایۃ و اکثرھم خبرۃ واعلمھم بالتمییز فطنۃ فیولیہ، المسألۃ لان القاضی مامور بالتفحص عن العدالۃ فیجب علیہ المبالغۃ والاحتیاط فیہ [1]اھ۔ |
گواہوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کےلئے قاضی ایسے حضرات کو مقرر کرے جو مناسب ترین دیانت میں متقی سمجھداری میں بڑے،خبرداری میں کثیر،اور پرکھنے کا زیادہ علم رکھتے ہوں تو ایسے لوگوں کو یہ معاملہ سپرد کرے کیونکہ قاضی گواہوں کے عدل کو معلوم کرنے کا پابند ہے،تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس معاملہ میں مبالغہ اور احتیاط سے کام لے اھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع