30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خزانۃ المفتین میں ہے:
|
لوادعی علی المیت دینا بحضرۃ احد الورثۃ یثبت الدین فی حق الکل وکذالوادعی احد الورثۃ دینا علی انسان للمیت واقام بینۃ یثبت الدین فی حق الکل و یدفع الی الحاضر نصیبہ مشاعا [1]الخ۔ |
اگر کسی نے میت پر قرض کا دعوٰی کرکے ورثاء میں سے ایك کی موجودگی میں ثابت کردیا تو وہ قرض تمام ورثاء پر ثابت ہوجائے گا اور یونہی ورثاء میں سے ایك نے اپنے والد کا قرض کسی شخص پر ثابت کردیا اور گواہ بھی پیش کردئے تو یہ قرض تمام ورثاء کے حق میں ثابت ہوجائے گا اور ثابت کرنے والے موجود وارث کو غیر منقسم حصہ کے طور پر بطور حصہ اس کو دے دیا جائیگا الخ(ت) |
لاجرم جامع الفصولین میں فتاوٰی امام رشید الدین سے نقل کیا:
|
لایملك الدائن اثبات الدین علی مدیون المیت ولا علی الموصی لہ ولواثبت علی من یصح اثباتہ علیہ کوصی ووارث ثبت لہ حق الاستیفاء منھما ولوانکر وارثہ وجود ترکۃ بیدہ فللدائن اثباتھا لالواجنبیا فلا تقبل علیہ بینۃ الدائن اذلیس بخصم فی اثبات الملك للمیت[2]۔ |
میت کے قرضخواہ کو میت کے مقروض یا موصی ٰ لہ پر قرض ثابت کرنے کا اختیار نہیں او ر اگر اس نے ایسے شخص پر قرض ثابت کردیا جس پر اثبات سے وصی اور وارث کے لئے حق ثابت ہوجاتا ہے تو اس کو وصی اور وارث سے اپنا قرض وصول کرنے کا حق ہوگا اور اگر وارث میت کا ترکہ اپنے قبضہ میں ہونے سے انکار کردے تو قرض خواہ کو قبضہ کے اثبات کا حق ہوگا اگر اجنبی شخص انکار کرے تو اس کے خلاف قرض خواہ کی گواہی مقبول نہ ہوگی کیونکہ وہ اجنبی میت کی ملکیت کے اثبات میں فرق نہیں ہے(ت) |
پس صورت مسئولہ میں زوجہ عمرو کا دعوٰی ضرور صحیح ہے مگر مہر ہندہ سے جس قدر حصہ عمرو ہو اس میں سے وہ مقدار کہ ترکہ عمرو سے خود حصہ بکر ہوئی چھوڑ کر باقی پر دعوٰی پہنچے گا،
|
لانھا لادعوی لھا ولافی الذی لزوجھا وما کان لزوجھا قد سقط منہ ماورثہ منہ ابوہ کما |
کیونکہ اس میں خود بیوی کو اور نہ ہی ا سکے خاوند کے حصہ میں دعوٰی ہے اور جو خاوند کا حصہ تھا اس میں سے والد جتنے کا وارث بنا ساقط ہوجائیگا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع