دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

بینواتوجروا(بیان کرو اجر دئے جاؤگے۔ت)

الجواب:

صورت مستفسرہ میں زوجہ عمرو کا دعوٰی صحیح ومسموع اور بکر کے عذرات باطل ومدفوع ہیں،زوجہ عمروضرور وارثہ ہندہ نہیں مگر اب وہ دین بھی دین ہندہ نہیں فان الموت ناقل للملک(کیونکہ موت ملکیت کو منتقل کرتی ہے۔ت)بعد موت ہندہ بقدر حصہ عمرو دین عمرو ہو ااور زوجہ عمرو وارثہ عمرو بھی ہے اور دائنہ بھی مہر زوجہ وغیرہ دیون کہ ذمہ عمرو ہوں جبکہ محیط ترکہ نہ ہوں تو مابقی بعد انفاذ وصایا علی حسب الفرائض خود ملك ورثہ ہے جن میں زوجہ بھی ہے تو اس قدر میں بکر خود مدیون زوجہ عمرو ہے نہ مدیون مدیون اور قدر دیون مہر وغیرہ میں اگرچہ ترکہ ملك عمرو پرباقی رکھاجائے لانصرافھا الٰی حاجۃ المیت(میت کی اپنی حاجت کیلئے ترکہ منتقل ہونے کی وجہ سے)مگر دائن میت ومدیون میت جبکہ دونوں وارثان میت ہوں تو ایسے دائن کا ایسے مدیون مدیون پر دعوی قطعًا مسموع ومقبول ہے،عدم سماع یا عدم قضا اس صورت میں ہے کہ وہ دونوں یا ان میں ایك میت سے اجنبی ہو۔تحقیق مقام کہ یہ دائن میت کو مدیون میت پر دعوٰی کرکے وصول پاسکنے کےلئے دو باتوں کی حاجت ہے:

اولًا: میت کا دین اس پر ثابت کرے اور جب یہ میت سے اجنبی ہے اسے ملك میت مدیون میت پر ثابت کرنے کا کیا استحقاق ہے فانہ لایصلح خصماعنہ(کیونکہ وہ اس کا فریق بننے کاصلاحیت نہیں رکھتا)اس کے لئے میت کے وصی یا وارث کادعوٰی درکار ہے۔

ثانیًا: اپنا دین میت پر ثابت کرے اور جب مدعا علیہ میت سے اجنبی ہے میت پر اثبات دین کےلئے اس کا حضور کافی نہیں فانہ لایقدم خصماعنہ(کیونکہ بطور فریق اسکی طرف سے پیش نہیں ہوسکتا)میت کا جو کوئی وصی یا وارث ہو تو میت پر دین ثابت کرنے کےلئے ان میں کسی کا حاضر ہونا ضرور ہے غرض عدم سماع کی وجہ عدم امکان ثابت ہے اگر دونوں امر کا ثبوت کسی طرح ہوجائے تو دعوٰی ضرور قابل قبول ہے ولہذا اگر دین دائن ذمہ میت نزد قاضی ثابت ہو اور مدیون میت مدیون میت ہونے کا اقرار کرے تو قاضی مدیون میت سے دائن میت کو دین دلادے گا، خلاصہ وہندیہ میں ہے:

لواقام البینۃ علی مدیون مدیونہ لاتقبل ولایملك اخذ الدین منہ امااذاثبت الدین فی ترکتہ عند القاضی واقررجل عند القاضی ان

اگر اپنے مقروض کے مقروض پر گواہی پیش کی تو مقبول نہ ہوگی اور وہ قرض وصول کرنے کا حقدارنہ ہوگا،لیکن جب میت کے ترکہ میں قرض(کسی پر)قاضی کے ہاں ثابت ہوجائے اور قرضدار شخص یہ اقرار کرے

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن