30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے فرماتا ہے:
|
"اِنۡ کُنۡتُمْ خَرَجْتُمْ جِہٰدًا فِیۡ سَبِیۡلِیْ وَابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیۡ ٭ۖ "[1] |
اگر تم نکلے ہو میری راہ میں جہاد کرنے اور میری مرضی چاہنے تو کافروں سے دوستی نہ کرو۔ |
ظاہر ہے کہ بھاگ جانے میں باہر جانے سے ایك امر زائد ہے اور زیادت بے ثبوت زائد ہر گز ثابت نہیں ہوسکتی،ہدایہ وغیرہا کتب مذہب میں جابجا ہے الاقل ھو المتیقن(قلیل یقینی امر ہوتا ہےلک۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۵۹: ازریاست ٹونك محلہ قافلہ مرسلہ مولوی سید ظہور اﷲ صاحب ۱۷/شوال ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بلاوصول دین مہر خود،درنگی بکر زوج اپنے کے فوت ہوگئی اس نے ایك بکر زوج خود اور دو پسر ایك عمرو او دوسرا زید وارث چھوڑے،بعد تخمینًا آٹھ سال کے عمرو کبھی فوت ہوگیا اور اس نے ایك زوجہ اور دو پسر اور دو دختر وارث چھوڑے،اب زوجہ عمرو نسبت بکر خود کے اس طرح دعویدار ہوئی کہ میرادین مہر میرے زوج عمرو کے ذمہ چاہئے اور عمرو کی والدہ ہندہ کا مہر ذمہ بکر خسر میرے کے واجب ہے جس میں عمرو کا بھی حصہ ہے پس اس کے حصہ میں سے اول یہ دین مہر مجھ کو وصول کرایا جاکر مابقی اس کا مجھ کو اور دو پسر اور دو دختر اولاد عمرو پر موافق فرائض اﷲ تقسیم کیاجائے،بجواب مطالبہ ہذا بکر پدر عمرو کو یہ عذرہے کہ دعوٰی زوجہ عمرو کا دو طرح سے مجھ پر نہیں پہنچتا اولا تو یہ کہ زوجہ عمرو وارثہ ہندہ کی نہیں دوسرے بقول اس کے اس کا دین مہر اپنے زوج عمرو پر ہے اور عمرو کی والدہ ہندہ کا دین مہر مجھ بکر پر بقول اس کے باقی ہے تو گویا دعوٰی اس کا مدیون کے مدیون پر ہوا جو عندالشرع قابل سماعت نہیں بموجب اس روایت کے:
|
لواقام البینۃ علی مدیون مدیونہ لایقبل ولایملك اخذ الدین [2]کذافی الخلاصۃ۔ |
اگر کسی نے اپنے مقروض کے مقروض پر گواہی پیش کی تو مقبول نہ ہوگی و ہ قرض حاصل کرنے کا حقدار نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت) |
صورت مسئولہ میں اگر جواب بکر کا موافق کتاب کے ہے تو اس استفتاء پر مواہیر ثبت فرمائی جائیں اور اگر خلاف شرع بکر کا جواب ہے تو اس کا حکم مع روایت ذیل میں قلمبند فرمایا جاکر مواہیر ثبت فرمائی جائیں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع