30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۵۵:مرسلہ محمداﷲ یارخان مقیم ریاست رامپور محلہ بزریا ملا ظریف گھر منشی عبدالرحمٰن مرحوم۲۶/ربیع الاول ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے اوپر مہر تیس ہزار تیس اشرفی رائج الوقت عقد کیا اس کے بعد زید نے دو دکانیں مملوکہ اپنی بعوض کل دین مہر ہندہ کو ہبہ کردیں اور کاغذ ہبہ نامہ رجسٹری شدہ سرکاری بھی مسماۃ ہندہ نے برضاورغبت بشہادت مرد مان ثقات کے اپنے کل دین مہر کا ادا ہوناا ور ایك حبہ زید کے ذمہ نہ رہنا قبول کرلیا یہاں تك کہ زید کی زندگی میں دس روپیہ ماہوار کرایہ دکانوں کا گیارہ برس آٹھ مہینے سے لیتی رہی اور اب زید مرگیا اب بھی لیتی ہے اور اپنی تمام عمر لے گی،اب سائل سوال کرتا ہے کہ زید نے ہبہ نامہ میں تفصیل تیس ہزار تیس اشرفی کی نہیں لکھی ہے اور جو قرار پایا تھا تو اب زید نے یوں لکھا دیا کہ مسماۃ ہندہ کے کل دین مہر کے ادا ہونے کے بدلے یہ دکانیں مجھ زید نے لکھ دیں اب ایك حبہ میرے ذمہ دین مہر مسماۃ ہندہ کا دینا باقی نہ رہا،پس لفظ کل کے تحریر کرنے سے زید بری الذمہ ہوگیایا نہیں،اب زید مرگیا،مسماۃ ہندہ نے دو ہزار روپیہ کے بابت مہر کی پھر نالش کردی ہے،یہ دعوٰی مسماۃ ہندہ کو عدالت میں پہنچتا ہے یانہیں؟
الجواب:
دعوٰی مذکورہ محض باطل ونامسموع ہے،جب ہبہ کل مہر کے عوض ہندہ نے قبول کرلیا کل مہر بحکم مقاصہ ساقط ہوگیا اب اس میں سے کسی جز کا دعوٰی صریح ظلم ہے،
|
فان الھبۃ بالعوض بیع ابتداء وانتھاء کما فی الدرالمختار[1]والمشتری لایبقی لہ ملك فی شیئ من الثمن وامثال المقام لاتحتاج الی التسمیۃ بل ولاالی علم المقدار لعدم الحاجۃ الی التسلیم والتسلم فی الھندیۃ ھذابیع لایحتاج فیہ الی التسلیم وبیع ما لم یعلم البائع والمشتری مقدارہ،اذاکان لایحتاج فیہ |
تو بیشك ہبہ بالعوض ابتداءً وانتہاءً بیع ہے جیسا کہ درمختارمیں ہے اور خریدار کی اد اکردہ ثمن میں ملکیت ختم ہوجائے گی، ایسے مقامات پر مبیع و بیع کا ذکر بلکہ مقدار مبیع کا علم بھی ضروری نہیں کیونکہ یہاں لینا دینا کچھ نہیں ہوتا،ہندیہ میں ہے کہ یہ ایسی بیع ہے جس میں کچھ سونپنے کی ضرورت ہےنہ ہی مبیع کی مقدار کا جاننا بائع یا مشتری کو ضروری ہے تو جس بیع میں سونپنا اور قبضہ دینا نہ ہوتو وہاں مقدار |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع