30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علاقہ نہیں شہوداگر معتبر شرعی ہیں ان کی شہادت کا قبول واجب اگرچہ یہ امور سب منتفی ہوں ورنہ نہیں اگرچہ یہ امور سب موجود ہوں،یہ سرسری نگاہ سے اتنے ابحاث ہیں،اور ہنوز بہت امور باقی ہیں کہ بخیال تطویل ترك کئے۔
بالجملہ تجویز بوجہ کثیرہ غیرصحیح ہے اور اس مسئلہ میں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر ان سات شاہدوں میں دو گواہ بھی معتبر شرعی ہیں خواہ وہ صرف اقرار عبدالغنی خاں کے گواہ ہوں یا صرف ایجاب وقبول کے یا ایك اقرارکا ایك ایجاب وقبول کا،تو از انجا کہ یہاں محمدی بیگم دونوں وجوہ ترجیح کی جامع ہے تاریخ بیع بھی اسی کی پہلی ہے اورقبضہ بھی اسی کا ہے لہذا ہر طرح فیصلہ بحق محمدی بیگم ہونا لازم،واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۵۴: ازرامپور ۱۸/رمضان المبارك ۱۳۱۶ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور ہندہ کا نکاح ہوا مہر مؤجل ومعجل کے ساتھ زید نے جائداد مملوکہ وموجودہ خود مہر معجل ہندہ میں مستغرق کردی اور یہ بھی اقرار کیا کہ آئندہ جوجائداد مجھ کو کسی ذریعہ سے حاصل ہو،تا مقدار مہر معجل ہندہ مستغرق ومکفول سمجھی جائے اگر یہ تحریر واقرار زید شرعًا صحیح ہے فہو المراد،ورنہ جو شرعًا قابل قبول قضاء ہو وہ الفاظ بتائے جائیں جو کہ لکھے جائیں جو شرعًا نافذ وجاری ہوں فقط
الجواب:
شرعًا استغراق جائداد بلا قبضہ جس طرح آجکل رائج ہے محض مہمل و بے معنی ہے،ہاں رہن مع قبضہ مرتہن ضرور عقد شرعی ہے مگر وہ دخلی حرام اور اس سے نفع لینا حرام او زید کا وعدہ نسبت جائداد آئندہ اور بھی مہمل تر ہے معدوم کی نسبت اقرار کیا معنی، مہر معجل کا دعوٰی عورت کو پیش از وقوع وطی ہر وقت پہنچتا ہے اور بعدو طی بھی لان کل وطائۃ معقودعلیہا(کیونکہ ہر وطی پر عقد ہے۔ت)تو جائداد موجود مہر میں دے دے یا عورت کے پاس رہن شرعی کردے اور باقی جوجائداد پیدا ہو عورت برضائے شوہر یونہی لیتی جائے نہ دے تو نالش وسوال امتناعی ونیلام سے کار برآری آج کل رائج ہے کہ جس میں دو صورتیں شرعی بھی نکل سکتی ہیں،ایك دیانۃً صرف مقدار دین کو خود نیلام میں لے کر زائد کو واپس دینا بناء علی ما افتی بہ الاٰن من اخذ الحق من خلاف الجنس(اب موجودہ فتوٰی کی بناء پر صاحب حق اپنا حق خلاف جنس میں حاصل کرسکتا ہے۔ت)،دوسرے نیلام مقدار مطالبہ سے زائد پر ہونااور مقدار زیادت کو مدیون کالے لینا فانہ یکون تنفیذ اللبیع کما نصواعلیہ ومن یتق اﷲ یجعل لہ مخرجا(تویہ بیع کو نافذ کرنا قررا پائے گا جیسا کہ فقہاء کی اس پر تصریح ہے،اور جو اﷲ تعالٰی سے ڈرے وہ اس لئے راستہ بنادیتا ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع