30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں محل نظریہ ہے کہ اسی بیعنامہ محمدی بیگم کے تحقیقات میں حاکم نے انہیں شہود کی شہادت پر اعتماد کیا اور اسی کی بنا پر یہ پابندی سرکلر بیعنامہ کو ثابت مان کر فیس اسٹامپ وتاوان رجسٹری لیا تو اب انہیں شہادتوں کا اسی ثبوت میں معتبر ومردود بتانے کا کوئی محل نہ رہا جیسا کہ امر پنجم میں واضح ہوچکا وہ غیر ثقہ نہیں فرضًا کھلے فساق ہوتے جب حاکم خود انہیں قبول کرکے حکم کرچکا شہادت نافذ ہوگئی،امر ششم میں واضح ہوا کہ فاسق بھی اہل شہادت ہے پھر بعد قبول رد کے کیا معنی،سائل نے نہ عبارت سرکار پیش کی جس کی تعمیل پر حاکم کی یہ کارروائی تھی نہ اس امر کے متعلق تجویز حاکم کی یہ کارروائی تھی نہ اس ا مر کے متعلق تجویز حاکم کی نقل نظر سے گزری کہ اس قبول و تنفیذ شہادت کا حال کما ینبغی منکشف ہوتا پھر بھی اس قدر میں شك نہیں کہ یہ امر بہت قابل لحاظ ہے اور مخالفت ضابطہ کاجواب تو اس سے بداہۃً واضح اگرچہ خدام شرع کو بحمداﷲ تعالٰی ضوابط شرع مطہر کے سوا کسی ضابطے سے بحث نہیں،جب خود صاحبان ضابطہ ہی نے وہ سرکلر جاری کیا اور اسی کے مطابق اب بعد ظہور وجہ وجیہ واجازت وحصول تحقیقات مزید وہ کاغذ مثل کاغذات رجسٹری ٹھہرگیا تو مخالفت ضابطہ کہاں رہی،فیس و تاوان رجسٹری لینے کے بعد بھی سادہ وساقط الاعتبار بتانا یعنی چہ،کیا سرکلر اس لئے وضع ہواتھا کہ اسٹامپ کے دام رجسٹری کا تاوان سب کچھ لے لیجئے اور پھر کہہ دیجئے کہ کاغذ سادہ ہے ساقط الاعتبار ہے یہ کہنا تو پہلے ہی حاصل فیس و تاوان کس بات کے لئے اور اس میں کون سا رفع عذر ہوا جسے مقصود عدالت بتایا جاتا ہے کیا قبل ظہو ر وجہ وجیہ وتحقیقات مزید کاغذ سادہ کو سادہ کہا جاتا تو شکایت ہوتی اب کے بعد ان تمام مراتب کے فیس وتاوان لے کر مصدقہ بناکر سادہ ساقط الاعتبار کہہ دینے سے کوئی عذرباقی نہ رہا۔
بحث ہشتم:قرائن صدق شہادات کی یوں نفی کہ نہ بیعنامے پر رجسٹری،نہ کاغذ اسٹامپ کا،نہ بائع کے ہاتھ کا لکھا،نہ دستخط،نہ اہل محلہ واقارب کی شہادت کہ انہیں سے بعض کے بے ثبوتی بیعنامہ کا دلیل عقلی بنایا گیا ہے اصلًا قابل التفات نہیں۔
اولًا:یہ اعتراض خود اپنے حکم پر ہے کہ انہیں شہادات کو ذریعہ ثبوت وجہ وجیہ مان کرفیس وتاوان لیا گیا۔
ثانیًا: رجسٹری واسٹامپ نہ ہونا اگر دلیل عقلی بطلان شہادات ہوتو انہیں کی بناپر فیس و تاوان لے کر کاغذ کو مصدقہ رجسٹری واسٹامی بنانا طرفہ دور کارنگ ہوگا کہ مصدقہ ماننا تو موقوف ہوا قبول شہادات پر قبول شہادات مصدقہ ہونے پر۔
ثالثًا: امر سوم میں واضح ہوچکا کہ اپنے لکھنے سے دوسرے پر املا اقوی ہے۔
رابعًا: یہ سب زوائد وفضول باتیں ہیں شرع مطہر مں قبول شہادات کو وجودًا وعدمًا ان باتوں سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع