30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فھی زورثم اتی اوقال کل شہادۃ یشھد لی فلان وفلان فھی کذب ثم شہدا[1]۔ |
یونہی اگر مدعی نے کہہ دیا کہ جو بھی شہادت پیش کروں وہ جھوٹی ہے یا یوں کہا فلان فلاں کی ہر شہادت میرے حق میں جھوٹ ہے اس کے گواہوں نے شہادت دی مقبول ہوگی۔(ت) |
جب یہ مقدمات ثمانیہ ممہد ہولئے بفضلہ تعالٰی حکم مسئلہ واضح ہوگیا اور چند مفید بحثوں نے رنگ انجلا پایا:
بحث اول:سید اشرف علی شمس الدین خاں،غلام محی الدین خاں،عبدالرزاق خاں،باقرحسین کی گواہی میں اصلًا کوئی غبار نہیں وہ صاف صاف شاہد اقرار عبدالغنی خاں ہیں نہ شاہدان مجلس ایجاب وقبول تو غلام محی الدین خاں وشمس الدین خاں کے بیانات پر یہ اعتراض کہ اگر کلام بائع کو ایجاب قرار دیں تو قبول اس مجلس میں نہیں یا محمدی بیگم کا بیان قبول نہیں اخبار ہے محض بے محل ہے،نہ ان شاہدوں نے دعوٰی کیا کہ ہم حاضر مجلس ایجاب وقبول تھے نہ ان کے بیان کئے ہوئے الفاظ حکایت ایجاب وقبول ہیں وہ صراحۃً اقرار عبدالغنی خاں بیان کررہے ہیں جن کے بعد محمدی بیگم کا کلام زیر سقف ہونا یا خبر محض ہونا یا اصلًا کچھ نہ ہونا کچھ بھی مضر نہیں،نہ اس پر لحاظ،کما بیناہ فی الامر الثانی(جیسا کہ اسے امر ثانی میں بیان کیا گیا ہے۔ت)
بحث دوم: سید اشرف علی نے صرف اپنے فعل پر شہادت ہر گز نہ دی بلکہ اس گواہی میں صراحۃً عبدالغنی خاں کا کتابت بیعنامہ کے لئے حکم کرنا اور خود عبارت بتاتے جانا اور اپنے ہاتھ سے مہر لگانا مذکور ہے،یہ افعال واقوال عبدالغنی خان کے ہیں یا سید اشرف علی کے،ان کے ساتھ اگر اپنا لکھنا بیان ہو ا تو ان سب پر شہادت کیوں صرف اپنے فعل پر شہادت قرار پاگئی۔
|
فی الھندیۃ عن المحیط عن النوادر عن الامام ابی یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذاشھد شاھدان ان فلانا امرنا ان نبلغ فلانا انہ قد وکلہ ببیع عبدہ وقد اعلمناہ او امرنا ان نبلغ امرأتہ انہ جعل امرھا |
ہندیہ میں محیط سے منقول کہ نوادر روایات میں سے امام ابویوسف سے منقول ہے کہ جب دو گواہ شہادت دیں کہ فلاں شخص نے ہمیں کہا کہ ہم فلاں کو یہ اطلاع دے دیں کہ اس نے اس کو وکیل بنایا ہے کہ اس کے غلام کو فروخت کردے تو ہم نے اس فلاں کو اطلاع پہنچا دی یا گواہوں نے یہ شہادت دی کہ اس شخص |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع