30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مہر معجل ہے تو جائدا د موجود عورت کو دے دے یا اس کے پاس بعوض مہر رہن رکھ دے اور جوباقی بچے اس کو آئندہ شوہر دے تو اس کی رضا سے لیتی جائے، نہ دے تو نالش کے ذریعہ نیلام کرائے، اور جومقدار مہر سے زائد ہو اس کو واپس کردے۔ |
۲۳۲ |
قضا کو زمان ومکان، خصومت اور دیگر شرائط کے ساتھ مقید کرنا جائز ہے۔ |
۲۳۶ |
|
آج کل خلاف جنس پر قابو پائے تو اپنا حق وصول کرسکتاہے۔ |
۲۳۲ |
باہر جانے کے لفظ سے فرار ثابت نہیں ہوتا۔ |
۲۳۶ |
|
جب کل مہر کے عوض جائداد ہبہ ہو کل مہر ساقط ہوگیا چاہے کتنا بھی ہو۔ |
۲۳۳ |
بھاگ جانے میں باہر جانے سے ایك امر زائدہے۔ |
۲۳۷ |
|
ہبہ بالعوض ابتداءً وانتہاءً بیع ہے۔ |
۲۳۳ |
زیادت بے ثبوت زائد ہر گز ثابت نہیں ہوسکتی۔ |
۳۳۷ |
|
مشتری کے لئے ثمن میں کچھ ملك باقی نہیں رہتی۔ |
۲۳۳ |
اقل متیقن ہوتاہے۔ |
۲۳۷ |
|
جہاں مقاصہ ہو وہاں مقدار کا بیان بلکہ معلوم ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ |
۲۳۳ |
مدیون کے مدیون پر دعوٰی صحیح نہیں۔ |
۲۳۷ |
|
مسلمانوں پر کسی بھی معاملہ میں ہنود کی گواہی معتبر نہیں۔ |
۲۳۴ |
موت کے بعد ملك منتقل ہوجاتی ہے۔ |
۲۳۸ |
|
تنہا عورتوں کی گواہی سے طلاق ثابت نہیں ہوتی۔ |
۲۳۴ |
دائن میت اور مدیون میت اگر میت کے وارث ہوں تو مدیون کے مدیون پر دعوٰی صحیح ہے۔ |
۲۳۸ |
|
گواہی نہ ہونے کی صورت میں شوہر کی قسم کھلائی جائے، قسم کھاکر طلاق کاانکار کردے گا تو عورت کادعوٰی رد ہوجائے گا اور قسم کھانے سے انکار کرے تو طلاق ثابت ہوگی۔ |
۲۳۴ |
تحقیق مقام۔ |
۲۳۸ |
|
نصاب شہادت برائے طلاق۔ |
۲۳۵ |
میت کے مدیون پر میت کا وارث یاوصی دعوٰی کرسکتاہے میت کا قرضدار نہیں۔ |
۲۳۸ |
|
زمانہ طلاق کے بارے میں گواہوں کا اختلاف کچھ مضر شہادت نہیں۔ |
۲۳۵ |
میت پر دعوٰی ثابت کرنے کے لئے بھی وصی یاوارث کاحضور شروط ہے۔ |
۲۳۸ |
|
بادشاہ اسلام یا قاضی قضاۃ نے جسے قاضیوں کے مقرر کرنے کاحق ہے جس شخص کو جن قواعد وشرائط کے ساتھ حکم کیا، پوری ریاست کے لئے جو قواعد وضوابط بنائے ان کی پابندی متعلقہ افراد کے لئے ضروری ہے۔ عدم پابندی کی صور ت میں فیصلہ کالعدم ہوگا۔ |
۲۳۵ |
میت کے مدیون پر دین اور خود میت پر دین اگر کسی اور طریقہ سے ثابت ہوجائے تو مدیون کے مدیون پر دعوٰی ہوسکے گا۔ |
۲۳۸ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع