30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماجرت بہ العادۃ فھذاکالنطق فلزم حجۃ،ومستبین غیر مرسوم کالکتابۃ علی الجدران واوراق الاشجار وعلی الکاغذ لاعلی الوجہ المعتاد فلایکون حجۃ الا بانضمام شیئ اٰخر الیہ کالنیۃ والاشہاد علیہ و الاملاء علی الغیر حتی یکتبہ لان الکتابۃ قد تکون للتجربۃ ونحوھا وبھذہ الاشیاء تتعین الجھۃ وقیل الاملاء بلااشھاد لایکون حجۃ والاول اظہر، و غیر مستبین کالکتابۃ علی الھواء والماء وھو بمنزلۃ کلام غیر مسموع ولایثبت بہ شیئ من الاحکام وان نوی اھ ومثلہ فی الھدایۃ وفتاوی قاضی خان[1]۔ |
کی طرح حجت ہے،دوسری واضح غیر معنون جیسا کہ کسی دیوار پر،درخت کے پتوں یا عام کاغذ پر غیر مروجہ طریقہ پر لکھی گئی ہو یہ کسی دوسری چیز کی مدد کے بغیر حجت نہ ہوگی مثلًا نیت یا گواہی یا دوسرے کو املاء کئے بغیرحجت نہ بنے گی کیونکہ ایسی تحریر کبھی تجربہ کے لئے ہوتی ہے لہذا مذکور قرائن سے اس کی وجہ متعین ہوسکے گی،بعض نے کہا ہے کہ املاء کی صورت میں جب تك گواہی نہ ہو حجت نہ بنے گی لیکن اول قول درست اوراظہر ہے تیسری وہ کہ واضح نہ ہو جیساکہ ہوا اور پانی پر تحریر ہو تو اس کی حیثیت غیر مسموع کلام جیسی ہے اس سے کوئی حکم ثابت نہ ہوسکے گااگرچہ نیت بھی کی ہو اھ، ھدایہ اور فتاوی قاضی خان میں بھی ایسے ہی ہے۔(ت) |
چہارم:بیع نام ایجاب وقبول کا ہے اور وہ جب الفاظ میں ہو خود گفتگو ہے اور کسی شے کی گفتگو بمعنی اس چیز کی بات چیت اور مشورے اور قرار کے بھی مستعمل مثلًا کسی کے نکاح کا مشہور ہوا ہو تو اس سے کہیں آج تمہارے بیاہ کی گفتگو تھی اس کے یہ معنی نہیں کہ ایجاب قبول ہوگیا بلکہ وہ مشورہ اور بات چیت مراد ہے تو لفظ گفتگوئے بیع دو معنی کو محتمل،اول اضافت بیانیہ یعنی وہ گفتگو کہ بیع ہے،اس تقدیر پر اس سے مقصود نفس ایجاب وقبول ہوگا۔دوم اضافت لامیہ یعنی بیع کا مشورہ اور اس کی بات چیت،اس تقدیر پر ہرگز اس کے معنی ایجاب وقبول نہیں بلکہ پیش از عقد اس کے باب میں مکالمہ باہمی،وھذا ظاہر جدا (اوریہ خوب ظاہر ہے۔ت)
پنجم: جب کسی معاملے کے متعلق کوئی شہادت پیش ہو اور حاکم اسے ایك امر میں قبول کرلے تو اسی مقدمہ کے متعلق کسی دوسرے امر میں بھی اسے رد نہیں کرسکتا سوا بعض صورت اسستثناء کے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع