30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوم: ثبوت عندالقاضی جس طرح شہادت اصل عقد سے ہوتا ہے یعنی گواہ کہیں ان دونوں نے ہمارے سامنے خریدم وفروختم کہا،یونہی شہادت اقرار سے بھی کہ گواہ کہیں ہماے سامنے اس نے اقرار بیع کیا،جامع الفصولین فصل۱۱میں برمز"می "منتقی الامام الحاکم الشہید سے ہے:
|
ادعی بیعاو شھدا انہ اقربالبیع تقبل[1]۔(ملتقطا) |
ایك شخص نے بیع کا دعوٰی کیا اور دو گواہوں نے اس کے بیع کے اقرار پر شہادت دی تو شہادت قبول ہوگی۔(ملتقطا)۔(ت) |
یوں ہی شہادت مختلطہ سے بھی یعنی ایك گواہ عقد بیع پر شہادت دے اور دوسرا اقرار بیع پر،بیع ثابت ہوجائے گی،جامع الفصولین میں برمز فقظ فتاوٰی امام قاضی ظہیر سے ہے:
|
فی البیع والاجارۃ والصلح لو شھد احدھما بعقد والاٰخر باقرارہ بہ لایضر[2]۔ |
بیع،اجارہ اورصلح کے معاملات میں ایك نے شہادت دی کہ عقد کیا ہے دوسرے نے اقرار کی شہادت دی تو یہ اختلاف مضر نہیں۔(ت) |
اسی میں برمز لبس مبسوط سے ہے:
|
ادعی شراء وشھدااحدھما بہ والاٰخر انہ اقربہ تقبل[3]۔ |
مدعی نے خریداری کا دعوٰی کیا،ایك گواہ نے خریدنے کی اور دوسرے نے خرید کرنے کے اقرار کی شہادت دی تو مقبول ہوگی۔(ت) |
اسی میں برمزلط لطائف الاشارات سے ہے:
|
شھدبنحوبیع والاٰخر باقرارہ بہ تقبل[4]۔ |
ایك نے بیع کی اور دوسرے نے اس بیع کے اقرار کی شہادت دی تو مقبول ہوگی۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
ادعی الشراء وشھداحدھما ببیع |
مدعی نے خریداری کا دعوٰی کیا،ایك نے فروخت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع