30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زمانہ کونسل میں زائد ازپنجاہ روپیہ لازمی رکھ کر بہت سے قیود اسٹامپ وغیرہ بڑھادئے گئے بلحاظ پابندی دستور العمل و جدید بیعنامہ سادہ عندالعدالت ساقط الاعتبار ہے خاصۃً ایسے محل پر کہ حسب تحریرمدعاعلیہا بائع آدم فریبی وجعلساز ہے،مانا کہ عدالت نے اسٹامپ وفیس لے لیا ہے مگر مقصود سوااس کے نہ تھا کہ عدالت انکشاف اصلیت معاملہ کرکے عذر کسی کا باقی نہ رکھے۔
عقلًا: حالت اشتباہی بیعنامہ ظاہر ہے بائع لکھا پڑھا آدمی ہے،نہ اس کے قلم کی تحریر،نہ دستخط،نہ اہل محلہ یا عزیز واقارب کی شہادت،نہ اسٹامپ،نہ وثائق نویس رجسٹری کا لکھا ہوا،حدود جنوبی وشمالی مشکوک،مہر عرفًا محفوظ نہیں رہتی جس کا دستیاب ہونا اہل خانہ کو دشوار ہو،جس حالت میں بیع مدعا علیہا ثبوت کو نہ پہنچی اس بناء پر اول مدعا علیہا کو کوئی منصب اعتراض کا بیعنامہ رجسٹری شدہ موسومہ مدعی وبائع مدعی پر نہیں۔دوم ہر دو بیعنامہ مدخلہ مدعی رجسٹری شدہ وباضابطہ نہیں۔سوم بائع کو ہر دو بیع مظہرہ مدعی مسلم ومقبول ہیں۔لہذا حکم ہوا کہ فیصلہ بحق مدعی ہوکر خرچہ مدعی ذمہ محمدی بیگم ونجم الغنی خاں عائد ہو فقط۔اب علمائے شرع سے استفسار ہے کہ شرعًا اس صورت میں حکم کیا ہے شہادات پیش کردہ محمدی بیگم بوجوہ مذکورہ مردود ہیں یا نہیں،شہود پر نہ کوئی جرح لی گئی نہ وہ مجروح ہیں،ایسی حالت میں انہیں بلاثبوت غیر ثقہ وغیر معتمد قرار دینا کیساہے۔عبدالرزاق خاں کا ذکر تجویز میں اصلًا نہ فرمایا گیا جس کے ملاحظہ کے بعد باقر حسین تنہا گواہ اقرار نہیں ثبوت بیع کیلئے خاص ایجاب وقبول پر شہادت گزرناضرور ہے یا اقرار بائع کا ثبوت بھی کافی،اور بر تقدیر ثبوت اقرار یہاں فیصلہ شرعًا بحق یعقوب علی خاں ہونا چاہئے یا بحق محمدی بیگم؟بینواتوجروا۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔طالب حق یہاں چند امر ملحوظ رکھے کہ باذنہ تعالٰی وضوح حکم میں دقت نہ رہے،
اول: ثبوت بیع کے دو معنی ہیں:ثبوت فی نفسہ یعنی بیع فی الواقع کا موجود ومنعقد ہونا،اور ثبوت عندالقاضی یعنی حاکم کے نزدیك اس کا پایہ ثبوت کو پہنچنا۔ثبوت فی نفسہ نہ صرف بیع قولی بلکہ ہر بیع کا قولی ہو یا فعلی وجوہ ایجاب وقبول پر موقوف ہے کہ وہ ارکان عقد ہیں اور کوئی عقد بے اپنے رکن کے متحقق نہیں ہوسکتا ہاں ایجاب وقبول اس سے عام ہیں کہ قولًا ہوں یا فعلًا،صراحۃً ہوں یا دلالۃً عبارۃً ہوں یا اقتضاءًہوں خطابًایا کتابًا،غرض کوئی قول کوئی فعل طرفین سے ایسا ہونا چاہئے جو باہم مبادلہ مال بالمال کی تراضی پر دلیل ہو کہ ان عقود میں معنی ہی اعتبار کا ہے زبانی تلفظ پر مدار نہیں،ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بیع جس طرح "بعت اشتریت" کہنے سے ہوجاتی ہے یونہی تحریر سے بھی کہ قلم بھی ایك زبان ہے۔اشباہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع