30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اول کتاب القضاء[1]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
میں ذکر کیا ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۵۳: ازریاست رامپور محلہ مدرسہ مولوی حکیم نجم الغنی خاں صاحب طبیب شفاخانہ فوجی ریاست رامپور ۱۶/رجب ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یعقوب علی خاں نے اپنے برادر عینی عبدالغنی خاں اور ان کی زوجہ وپسر محمدی بیگم ونجم الغنی خاں پر حاکم شرع کے حضور نسبت مکان مسکونہ مدعا علیہم دعوی دخلیابی بریں بنادائر کیا کہ یہ مکان عبدالغنی خان نے ۱۹/مئی ۱۸۹۷ء کوعلی محمد خان کے ہاتھ بیع کیا پھر یکم جون ۱۸۹۷ء کو اس سے کرایہ پر لیا بعدہ علی محمد خان مالك مشتری نے ۱۳/جولائی ۱۸۹۸ء کو میرے ہاتھ بیچا عبدالغنی خان اصالۃً اور انکی زوجہ وپسر بالتبع بذریعہ کرایہ قابض اب تخلیہ نہیں کرتے عبدالغنی خان نے دعوی مدعی قبول کیا اور علی محمد خان نے بھی اس کی تصدیق کی محمد بیگم ونجم الغنی خان نے جواب دیا کہ دعوٰی بہ ساز ش عبدالغنی خاں برادر حقیقی مدعی دائر ہوا ہے عبدالغنی خاں نے یہ مکان یکم جنوری ۹۷ء کو مجھ محمدی بیگم کے ہاتھ تین سو روپے کو بیچ کر بیعنامہ مہری اپنا مرتب بگواہی گواہان کرکے مجھے حوالہ کردیا اور زر ثمن میرے مہر میں مجرا کیا مجھے مالك مستقل بناکر قابض کرادیا جب مجھے معلوم ہوا کہ بیعنامہ غیر مصدقہ رجسٹری ہے تو میرے اعتراض پر رجسٹری کرادینے کا وعدہ کیا اور لطائف الحیل میں رکھا پھر کہہ دیا ہمارا تمہارا معاملہ زن وشوکا ہے تصدیق کی کیا ضرورت،پھر خارجًا اس بیع فرضی کی کارروائی کی،محمدی بیگم نے اپنے ثبوت میں بیعنامہ مذکور مہری عبدالغنی خان اور آٹھ مرد دو عورتیں گواہ پیش کئے حاکم مجوز نے حسب سرکلر مجریہ نواب خالد آشیاں کے جس کاغذ بے رجسٹری کے ثبوت پر وجہ وجیہہ گزرجائے تو اسے ثبوت میں لینے اور باضابطہ تحقیقات کرنے کی نسبت حکام بالا سے اجازت لے کر بعد تحقیقات فیس اسٹامپ وتاوان رجسٹری لے کر مثل کاغذات مصدقہ سمجھا جائے حاکم مجوز نے بعد سماع ثبوت اجازت تحقیقات مزید حاصل کی پھر بعد مزید تحقیقات فیس اور تاوان لے لیا،یہ ثبوت و تحقیقات انہیں گواہان پیش کردہ محمدی بیگم سے ہوئے ان میں سید حشمت علی ویوسف علی خاں صاحبان شہود ایجاب و قبول ہیں کہ ہمارے سامنے عبدالغنی خاں نے اپنی زوجہ محمدی بیگم سے کہا یہ مکان میں نے تمہارے ہاتھ تین سو روپے کو بیچا اور زر ثمن تمہارے مہر میں مجرا کیا بیعنامہ دو چارروز میں لکھا دوں گا محمدی بیگم نے کہا میں نے سید اشرف علی کاتب بیعنامہ اور شمس الدین خاں غلام محی الدین خاں نثار علی شاہ عبدالرزاق خان پانچوں گواہان حاشیہ بیعنامہ ہیں،ان میں کاتب کا بیان ہے میں نے یہ بیعنامہ عبدالغنی خان کے کہنے سے لکھا،عبارت عبدالغنی خاں بتاتے گئے مہر اپنی انہوں نے اپنے ہاتھ سے لگائی،عبدالرزاق خان نے کہا میں مولوی عبدالغنی خان کے بیٹے سے ملنے گیا مولوی عبدالغنی خان نے مکان متنازعہ کاکاغذ نکالا اورکہا کہ یہ مکان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع