30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسی جگہ اقرار حجت شرعیہ ہے اور اس پر شہادت ثبوت دعوٰی کے لئے کافیہ وافیہ،جامع الفصولین فصل حادی عشر میں ہے:
|
لوادعی قضاء دینہ اشھداانہ اقربا ستیفائہ تقبل[1]۔ |
اگر مدعی نے قرض ادا کرنے کا دعوٰی کیا ہو دو گواہوں نے یہ شہادت دی کہ مدعی نے قرض وصول کرلینے کا اقرار کیا ہے،تو شہادت مقبول ہوگی۔(ت) |
بخلاف رسیدات کہ یہ کوئی حجت نہیں حاصل انکار عمرو یہ ہوگا کہ منجملہ آٹھ ہزار کے سات سو مجھے نہ ملے کہ اس قدر کی رسید میری لکھی ہوئی نہیں،ایسا فضول جواب بعد ثبوت اقرار کیا قابل التفات ہوسکتا ہے،بالفرض اگر ایك رسید کو بھی عمرو نہ مانتا یا اصلًا کوئی رسید ہوتی ہی نہیں تو ثبوت اقرار ثبوت ایصال کو بس تھا اور جب یہ جواب خود مہمل ہے تو اس پر شہادت بھی قطع نظر اس سے کہ معنی نفی پر شہادت ہے جس کا حاصل یہ کہ اتنے روپے نہ پہنچے خود فضول و مہمل ہے کہ یہ شہادت ایسی ہی چیز ہے جس کا وجود وعدم یکساں،تو بعد ثبوت حجت شرعیہ ایك امر غیر حجت میں خلل ہو بھی توکیا۔فتاوٰی قاضیخان واشباہ والنظائر وفتاوٰی خیریہ و عقود الدریہ وغیرہاکتب کثیرہ میں ہے:
|
واللفظ للعلامۃ الرملی فی فتاوٰی المقرر عندعلماء الحنفیۃ انہ لااعتبار بمجرد الخط ولاالتفات الیہ حجج الشرع ثلثۃ وھی البینۃ اوالاقرار اوالنکول کما صرح بہ فی الاقرار الخانیۃ[2]۔ |
فتاوٰی میں علامہ رملی کے الفاظ ہیں کہ علماء احناف کے ہاں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ محض خط کا کوئی کااعتبار ہے نہ وہ قابل توجہ ہے کیونکہ شرعی دلائل تین ہیں:گواہی یا اقراریا قسم سے انکار،جیسا کہ خانیہ کے باب الاقرار میں تصریح ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار او النکول کما فی اقرار الخانیۃ وقد نقلہ الشیخ زین فی اشباھہ ونظائرہ فی |
قاضی صرف حجت پر فیصلہ دے گا اور وہ صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے جیساکہ خانیہ کے باب الاقرار میں ہے اور اس کو شیخ زین الدین نے اپنی اشباہ ونظائر میں کتاب القضاء کے شروع |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع