30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حال حیاتہ لاتسمع دعواہ بعد وفاتہ[1]۔ |
کے بعد دوسرے نے زمین پر دعوٰی کیا تو اس کا دعوٰی مسموع نہ ہوگا کیونکہ اس کی زندگی میں دوسرے نے دعوٰی نہ کیا۔(ت) |
عقود الدریہ میں ہے:
|
فی فتاوی المرحوم العلامۃ الغزی صاحب التنویر سئل عن رجل لہ بیت فی دار یسکنہ مدۃ تزید علی ثلث سنواۃ ولہ جاربجانبہ والرجل المذکور یتصرف فی البیت المزبور ھدما وعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرف فی المدۃ المذکورۃ فہل اذاادعی البیت اوبعضہ تسمع دعواہ ام لا اجاب لاتسمع دعواہ علی ماعلیہ الفتوی[2]۔ |
علامہ غزی صاحب تنویر کے فتاوٰی میں ہے ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص کا حویلی میں مکان ہے وہاں وہ تین سال سے زائد عرصہ رہائش پذیر ہے اور وہ اپنے مکان میں توڑ پھوڑ اور مرمت کاکام کرتا رہا اس کے پڑوس والا شخص اس کے ان تصرفات کو دیکھتا رہا اور مدت مذکورہ میں خاموش رہنے کے باوجود اب اس مکان کے کل یا بعض پر دعوٰی کرے تو اس کا دعوٰی مسموع ہوگا یا نہیں؟ تو جواب میں فرمایا کہ فتوٰی کے مطابق اب اس کا دعوٰی مسموع نہ ہوگا۔(ت) |
اوراگراس وقت تك بچہ یا مجنون یا غائب تھا اب عاقل بالغ ہو ایا اطلاع پائی تو اگر ثابت ہو کہ زید کی جائداد قبضہ ہندہ میں بطور ہبہ یا بعوض دین مہر تھا جب بھی دعوٰی عمرو نامقبول ہونا خود ظاہر،اوراگر اس کا ثبوت نہ ہو تو دیکھیں گے کہ دین مہر ہندہ ترکہ کو مستغرق یعنی اس کی قیمت سے زائد مساوی ہے یانہیں،اگر مستغرق ثابت ہو جب بھی عمرو کا اصل مبنائے دعوٰی عن ملك بذریعہ وراثت حاصل ہی تھا کہ دین جب ترکہ کو محیط ہو تو وارث اس کے مالك نہیں ہوتے نہ وہ اسے لے سکتے ہیں کل جائداد ادائے دین میں صرف کی جائیگی،اشباہ میں ہے:
|
الدین المستغرق للترکۃ یمنع ملك الوارث[3]۔ |
میت پر قرضہ اس کے ترکہ کے برابر یا زائد ہو تو وارث کی ملکیت کےلئے مانع ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع